اسلام آباد و کے پی میں ڈینگی کیسز میں اضافہ — حکام کا ایکشن پلان، عوام کے لیے احتیاطی ہدایات

اسلام آباد میں ڈینگی کے کیسز میں مسلسل اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے۔ ضلعِ اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کے مطابق بدھ، 27 اگست 2025 تک وفاقی دارالحکومت میں 122 کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جبکہ راولپنڈی انتظامیہ نے موسمِ برسات کے تناظر میں ایکشن پلان کی تیاری پر بریفنگ دی ہے۔ وفاقی سطح پر وزیرِ مملکتِ صحت نے ڈینگی کی موجودہ صورتِ حال اور انسدادی اقدامات کا جائزہ بھی لیا

خیبر پختونخوا میں بھی ڈینگی کی صورتِ حال تشویش ناک ہے۔ صوبائی اعداد و شمار کے مطابق فعال کیسز 90 تک پہنچ گئے ہیں، جب کہ سال بھر میں 398 افراد ڈینگی سے متاثر ہو چکے ہیں۔ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں 82 نئے مریض سامنے آئے، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ہسپتالوں اور ویجلنس ٹیموں کو ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

ماہرین کے مطابق حالیہ بارشوں، جگہ جگہ پانی کھڑے ہونے اور درجۂ حرارت میں اتار چڑھاؤ کے باعث ایڈیز ایجپٹائی مچھر کی افزائش تیز ہو جاتی ہے، جس سے ڈینگی کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) ڈینگی سے بچاؤ کے لیے گھروں اور دفاتر کے اندر/باہر پانی جمع نہ ہونے دینا، ٹینکیوں و بالٹیوں کو ڈھک کر رکھنا، کھڑکیوں پر جالی لگانا، اور جسم ڈھانپنے والے کپڑے پہننے کی ہدایات دیتا ہے۔ بچوں اور بڑوں کے لیے WHO کیٹگری-محفوظ ریپیلنٹ (DEET وغیرہ) لگانے کی بھی سفارش کرتا ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں شہری ادارے لاروہ کشی، ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی، اور ہسپتالوں میں مخصوص وارڈز کے قیام جیسے انتظامی اقدامات لے رہے ہیں، البتہ حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کمیونٹی کی سطح پر تعاون کے بغیر کیسز میں کمی مشکل ہے۔ گھروں کی چھتوں، گملوں، ٹائروں، کولروں اور زیرِ تعمیر عمارتوں میں پانی نہ ٹھہرنے دینا شہریوں کی پہلی ذمہ داری بتائی گئی ہے۔

خلاصہ
اسلام آباد میں 122 کیسز؛ راولپنڈی نے ایکشن پلان مرتب کیا۔
کے پی میں فعال کیسز 90، متاثرین کی مجموعی تعداد 398؛ 24 گھنٹوں میں 82 نئے کیسز۔
WHO کے مطابق گھریلو پانی کے ذخائر ڈھانپنا، ریپیلنٹ اور حفاظتی لباس مؤثر احتیاطی طریقے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں