مائیکل سمتھ کو دو سال کے لیے پاکستان کی مردوں کی ٹیم کا بیٹنگ کوچ مقرر کر دیا گیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی افریقہ کے کوچ مائیکل اسمتھ کو پاکستان کی مردوں کی ٹیم کا بیٹنگ کوچ مقرر کیا گیا ہے اور ان کی تقرر ی دو سالہ مدت کے لیے کی گئی ہے۔
اسمتھ ریڈ بال اور وائٹ بال، دونوں فارمیٹس کی ٹیموں کے ساتھ کام کریں گے اور توقع ہے کہ وہ انگلینڈ کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز کے لیے اسکواڈ کو جوائن کر لیں گے۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کا آغاز 19 اگست سے ہوگا۔
عمر گل اس وقت قومی ٹیسٹ ٹیم کے باؤلنگ کوچ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن بیٹنگ کوچ کا عہدہ مستقل بنیادوں پر خالی تھا۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر اسد شفیق بطور سلیکٹر کبھی کبھار بیٹنگ سے متعلق رہنمائی فراہم کرتے رہے ہیں، لیکن اب یہ ذمہ داری مکمل طور پر اسمتھ کے سپرد ہوگی۔
گزشتہ چند مہینوں کے دوران پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کو شدید تنقید کا سامنا رہا ہے، اور ٹیسٹ کرکٹ میں بار بار بیٹنگ لائن اپ کے لڑکھڑانے (collapses) کے واقعات نے بورڈ میں تشویش بڑھا دی ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں، پاکستان 3 وکٹوں پر 244 رنز کی مستحکم پوزیشن پر ہونے کے باوجود اپنی آخری سات وکٹیں صرف 38 رنز کے اضافے سے گنوا بیٹھا، اور بعد ازاں 211 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پوری ٹیم صرف 120 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
اعداد و شمار مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ 2025 کے آغاز سے لے کر اب تک، پاکستان کے نچلے نمبروں پر کھیلنے والے چار بلے بازوں کی فی وکٹ اوسط صرف 9.91 رنز رہی ہے، جو اس عرصے کے دوران تمام ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک میں سب سے کم اوسط ہے۔
پاکستان کے باؤلرز کو بھی حریف ٹیم کے نچلے آرڈر کے بلے بازوں کو جلد آؤٹ کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے، جس سے طویل فارمیٹ میں ٹیم کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ شائقین کو امید ہے کہ اسمتھ کی تقرری سے بیٹنگ آرڈر میں استحکام آئے گا اور ٹیم کو اپنی حالیہ کوتاہیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ پاکستان، جو اس وقت ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیل رہا ہے، آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی درجہ بندی میں نویں نمبر پر موجود ہے۔
