آبنائے ہرمز میں خلل گزشتہ 80 برسوں میں عالمی تجارت کے لیے بدترین خطرے کا باعث بنا ہے: سربراہ ڈبلیو ٹی او
عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کی ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تجارت کو گزشتہ 80 سالوں میں بدترین تعطل کا سامنا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں سپلائی چین کی رکاوٹیں خوراک اور کھاد کی عالمی قیمتوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
جنیوا میں ڈبلیو ٹی او کے ‘پبلک فورم’ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نگوزی اوکونجو-ایویالا نے ‘انادولو’ کو بتایا کہ عالمی تجارتی نظام اگرچہ مستحکم اور لچکدار ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعہ تنظیم کے 166 رکن ممالک کے لیے ایک بڑی آزمائش ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ جغرافیائی سیاسی (geopolitical) دباؤ کے باوجود اس سال اشیاء کی عالمی تجارت میں غیر متوقع طور پر 4.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ کل عالمی تجارت کا 72 فیصد حصہ ڈبلیو ٹی او کے قوانین کے تحت جاری رہا۔ پورے سال کے لیے اشیاء کی تجارت میں مجموعی اضافے کا ابتدائی تخمینہ 1.9 فیصد تھا، لیکن پہلی سہ ماہی میں شرحِ نمو 3.2 فیصد رہی جو توقعات سے کہیں زیادہ تھی۔
اوکونجو-ایویالا نے کہا کہ اس تیزی کا ایک بڑا حصہ مصنوعی ذہانت (AI) کی بڑھتی ہوئی تجارت کی وجہ سے تھا؛ اس تجارت کو کم یا صفر ٹیرف (محصول) والے معاہدوں نے فروغ دیا جن کا اطلاق 3 ٹریلین ڈالر مالیت کی عالمی سیمی کنڈکٹر اور چپ کی ترسیلات پر ہوتا ہے۔
اسکول اور کھیلوں کے میدان پر امریکی حملے ‘واضح جنگی جرائم’ تھے، نہ کہ ‘آپریشنل غلطیاں’: ایران کے نائب وزیر خارجہ ایران کے نائب وزیر خارجہ غریب آبادی نے جمعہ کے روز کہا کہ میناب اور لامرد میں امریکہ کے حملے “واضح جنگی جرائم تھے، نہ کہ کوئی آپریشنل غلطی۔” سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (X) پر ایک پوسٹ میں غریب آبادی نے کہا، “تاریخ اسے فراموش نہیں کرے گی؛ میناب میں ایک اسکول 168 بچوں کے خون سے رنگین ہو گیا، اور لامرد میں کھیلوں کا میدان شہریوں کے لیے قتل گاہ میں تبدیل ہو گیا۔”
