سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت پر رہائی کے حکم کے بعد اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ایمان اور ہادی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔
سوشل میڈیا پر متنازعہ پوسٹس کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے چند گھنٹوں بعد ہی وکلاء ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
اسلام آباد پولیس نے کوہسار پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے کے سلسلے میں دونوں وکلاء کو انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے مقدمے کی سماعت کی۔ پولیس نے دونوں کا 30 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا تھا، لیکن جج نے یہ استدعا مسترد کر دی اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
اس سے قبل، سپریم کورٹ نے دونوں وکلاء کی ضمانت منظور کرتے ہوئے سوشل میڈیا پوسٹس کیس میں ٹرائل کورٹ کے 19 فروری کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا؛ عدالت نے کہا کہ یہ ریلیف اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) میں زیرِ سماعت مقدمے کے حتمی فیصلے تک دیا جا رہا ہے۔
حقوقِ انسانی کی کارکن اور وکیل ایمان مزاری اور ایڈووکیٹ ہادی علی چھٹہ کو جنوری 2026 میں سوشل میڈیا پر متنازعہ پوسٹس سے متعلق متعدد الزامات کے تحت مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ یہ پوسٹس سائبر کرائم قوانین کے تحت ریاست مخالف بیانیے کے زمرے میں آتی ہیں۔
ایمان اور چھٹہ نے جنوری میں اپنی سزائیں معطل کروانے کے لیے درخواستیں دائر کی تھیں۔ ایمان مزاری کی والدہ اور قومی اسمبلی کی سابق رکن شیریں مزاری نے دونوں وکلاء کی دوبارہ گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے انتقامی کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر دونوں کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا، “جیسا کہ میں ہمیشہ کہتی رہی ہوں، معاملہ ہمیشہ انتقام کا رہا ہے، ایمان اور ہادی کے لیے انصاف کا نہیں۔”
