بھیڑیوں کے کتے بننے کی کہانی ہماری سوچ سے کہیں زیادہ عجیب ہے۔
پندرہ ہزار سالوں سے انسان اور کتے ایک ساتھ ارتقائی عمل سے گزرتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ارتقاء کی تاریخ میں ایک انتہائی شاندار شراکت داری وجود میں آئی ہے۔ کتے طویل عرصے سے “انسان کے بہترین دوست” کے طور پر جانے جاتے ہیں، اور آثارِ قدیمہ کے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ تعلق زمانہ قبل از تاریخ تک پھیلا ہوا ہے۔ 14 ہزار سال پرانی قبروں میں انسانوں کے پہلو بہ پہلو دفن کیے گئے کتوں کے آثار ملے ہیں۔
وہ دنیا بھر کے تمام براعظموں کے قدیم فن پاروں میں بھی دکھائی دیتے ہیں اور مختلف تہذیبوں کی دیومالائی کہانیوں، مذاہب اور لوک روایات میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ آثارِ قدیمہ کے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ تحریری تاریخ کے دوران کتوں نے انسانوں کی کئی طریقوں سے خدمت کی ہے۔
انہوں نے شکار میں انسانوں کی مدد کی، گھروں کی حفاظت کی، بوجھ اٹھایا، مویشیوں کی دیکھ بھال کی اور انسانوں کا ساتھ نبھایا۔ آج، پہلے کی نسبت کہیں زیادہ تعداد میں کتے انسانوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ، انسانوں نے ان کی سینکڑوں مخصوص اقسام تیار کی ہیں؛ جن میں ہینڈ بیگ میں سما جانے والے چھوٹے سے ‘چیہواہوا’ (Chihuahua) سے لے کر کمر کی اونچائی تک قد رکھنے والے ‘گریٹ ڈین’ (Great Dane) جیسے کتے شامل ہیں۔
