آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کے باوجود بلاول کو ‘شفافیت’ کی امید

آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کے باوجود بلاول کو 'شفافیت' کی امید

آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے انتخابات کا دوسرا مرحلہ آج صبح شروع ہوا۔ مظفرآباد ڈویژن کے نو حلقوں اور مہاجرین کے تمام 12 حلقوں میں پولنگ ہو رہی ہے۔ پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی اور شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہے گی۔ مظفرآباد کی نو نشستوں اور مختلف علاقوں میں آباد مہاجرین کی 12 نشستوں کے لیے 300 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔ ’دھاندلی کا اعتراف‘ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر آزاد کشمیر میں انتخابات تین مرحلوں میں منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں سے پہلا مرحلہ 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں ہوا تھا۔

پولنگ کے عمل کے دوران ہاتھا پائی، تشدد اور دھاندلی کے الزامات سامنے آئے تھے، اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے پر انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے تھے۔ مرکز میں اتحادی جماعتیں ہونے کے باوجود، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اس وقت سے لفظی جنگ جاری ہے جب انتخابات کے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) برتری حاصل کر کے سامنے آئی۔

پیپلز پارٹی نے میرپور میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ کشیدگی کم کرنے کے لیے، دونوں جماعتوں کے سینئر رہنماؤں نے ہفتے کے آخر میں آزاد کشمیر میں کئی بار ملاقاتیں کیں تاکہ تنازع کا “قانونی حل” تلاش کیا جا سکے۔ بات چیت کا یہ تازہ ترین دور جمعرات اور جمعہ کو ہونے والی دو ابتدائی ملاقاتوں کے بعد ہوا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ایک ذریعے نے بتایا کہ بات چیت کا مرکز پیپلز پارٹی کے الزامات اور مخصوص حلقوں میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ تھا۔ ذریعے نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا اپنے ہم منصبوں سے یہ کہنا نقل کیا کہ “یہ کوئی منصوبہ بند یا پہلے سے طے شدہ دھاندلی نہیں تھی بلکہ یہ اکا دکا واقعات تھے جو ان مقامات پر پیش آئے جہاں کسی ایک امیدوار کے حامیوں کو اپنے مخالفین پر عددی برتری حاصل تھی۔ بدقسمتی سے ایسے واقعات اس خطے میں پولنگ کے ماحول کا حصہ رہے ہیں اور ماضی کے انتخابات میں بھی دیکھے گئے ہیں۔”

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں