خواتین ہاسٹل کی رہائشیوں کے بارے میں ڈاکٹر ثمینہ حق کے دعوے پر آن لائن بحث چھڑ گئی
ڈاکٹر ثمینہ حق ایک ممتاز پاکستانی ماہرِ امراضِ نسواں (گائناکالوجسٹ) اور IVF/ICSI کی ماہر ہیں، جن کا تجربہ 30 سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ اپنے طبی کیریئر کے علاوہ، وہ ایک معروف عوامی مقرر بھی ہیں اور اکثر ڈیجیٹل و سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نظر آتی ہیں۔
ڈاکٹر ثمینہ سماجی مسائل، خاص طور پر اسلامی تعلیمات کے منافی سماجی رویوں اور نوجوانوں کے گناہ کی طرف مائل ہونے جیسے موضوعات پر بھی گفتگو کرتی ہیں۔ ’مین ارسلان‘ (Main Arsalan) کے ساتھ حال ہی میں ہونے والے ایک پوڈ کاسٹ میں، ڈاکٹر ثمینہ حق نے تعلیم یا روزگار کے سلسلے میں چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں کا رخ کرنے والی نوجوان خواتین کے بارے میں ایک متنازعہ دعویٰ کیا۔
ڈاکٹر ثمینہ حق نے دعویٰ کیا کہ، “چھوٹے قصبوں سے بڑے شہروں میں منتقل ہونے والی اور اعلیٰ تعلیم یا ملازمت کے دوران ہاسٹلز میں رہائش پذیر نوجوان خواتین کی اکثریت دیگر ذرائع سے آمدنی حاصل کر رہی ہے۔ دن کے اوقات میں تو وہ یونیورسٹی جاتی ہیں یا باقاعدہ ملازمت کرتی ہیں، لیکن رات کے وقت وہ دیگر ذرائع سے کمائی کرتی ہیں۔ اکثریت ایسا ہی کر رہی ہے۔”
