نیپال میں تبت کی سرحد کے قریب شدید سیلاب سے کم از کم 95 افراد ہلاک: پولیس
پولیس کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کے نیپال میں تبت کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں شدید سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 95 افراد ہلاک ہو گئے۔ ترجمان آبی نارائن کافلے نے کہا، “اب تک 95 ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے،” اور مزید بتایا کہ پولیس کے تقریباً 28 اہلکار بھی لاپتہ ہیں۔
اس آفت کے آنے کے کئی گھنٹے بعد بھی سینکڑوں سیاحوں سے رابطہ منقطع تھا۔ چین اور نیپال کے درمیان بہنے والے ایک دریا کے کناروں سے مٹی اور ملبے کا ایک زوردار ریلا امڈ آیا، جس نے عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے ہنگامی کارروائی شروع کر دی گئی۔
سرکاری میڈیا نے مقامی حکام کے ابتدائی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چینی حکام کے مطابق مٹی کے تودے گرنے کے اس واقعے میں تین افراد ہلاک اور 265 دیگر لاپتہ ہو گئے۔ مزید کہا گیا کہ صدر شی جن پنگ نے بچاؤ کی “بھرپور” کوششوں کا حکم دیا ہے۔
یہ بات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی کہ آیا چینی اعداد و شمار اور نیپالی حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں کوئی تکرار یا مماثلت ہے یا نہیں؛ سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی (CCTV) کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی مخصوص تعداد کی تصدیق ابھی کی جا رہی ہے۔ 56 سالہ راجو بھاڈیل نے کہا، “آج صبح مجھے [اپنے بہنوئی] کی کال موصول ہوئی، وہ رو رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ ان کا پورا گھر بہہ گیا ہے۔
خاندان کے تین افراد کو تو بچا لیا گیا لیکن ان کے بھائی اب بھی لاپتہ ہیں۔” نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے ہمالیائی ملک کے عوام پر زور دیا کہ وہ اس تباہ کن سیلاب کے بعد متحد رہیں۔ شاہ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا، “آپ کو جس دکھ اور نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ معمولی نہیں ہے۔ لیکن میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس مشکل وقت میں آپ اکیلے نہیں ہیں؛ ریاست اپنے تمام وسائل اور صلاحیتوں کے ساتھ آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔”
