ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے مشترکہ شپنگ روٹ کی تجویز پر غور کر رہے ہیں۔
عمان اور ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کے لیے ایک عارضی مشترک راہداری (کوریڈور) کے قیام کے مجوزہ خاکے پر بات چیت کی۔ سرکاری خبر رساں ادارے ‘عمان نیوز ایجنسی’ کی جانب سے جاری کردہ دونوں ممالک کے مشترکہ بیان کے مطابق، یہ تجویز تہران میں عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پیش کی گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں اعلیٰ سفارت کاروں نے آبنائے ہرمز سے متعلق پیش رفت پر “تعمیری” بات چیت کی؛ یہ آبنائے عالمی تجارت اور توانائی کی برآمدات کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ دریں اثنا، ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ نے رپورٹ کیا کہ تہران نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ذریعے آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے شرائط واشنگٹن تک پہنچائیں۔
تسنیم نے ایران کی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کا مقصد دھمکی دینا نہیں تھا بلکہ تہران کا مؤقف پہنچانا اور ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ذرائع نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شرکت والی ملاقاتوں میں تہران کا مؤقف پاکستانی فریق تک واضح طور پر پہنچا دیا گیا تھا۔ تسنیم کے مطابق، تہران کی شرائط میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ امریکہ ‘اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت’ (MoU) کی طرف واپس آئے اور اس کی شقوں پر عمل درآمد کرے۔
