پی ٹی آئی لانگ مارچ کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کرے گی۔

پی ٹی آئی لانگ مارچ کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کرے گی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب اپنے مجوزہ لانگ مارچ سے قبل اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت حکمران اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے بھی رابطے پر غور کر رہی ہے کیونکہ وہ اپنی مہم کے لیے وسیع تر سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کا ایک وفد 14 اگست کے بعد اپوزیشن جماعتوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کرے گا۔ توقع ہے کہ سات رکنی وفد میں سلمان اکرم راجہ، جنید اکبر، عامر ڈوگر اور عاطف خان سمیت دیگر رہنما شامل ہوں گے اور یہ وفد اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کرے گا۔

یہ رابطے خیبر پختونخوا (کے پی) کی سیاسی قیادت تک بھی بڑھائے جائیں گے کیونکہ پی ٹی آئی جمعیت علمائے اسلام-فضل (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کا ارادہ رکھتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی اپنی مجوزہ عوامی مہم کے لیے سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں ‘تحریک تحفظ آئینِ پاکستان’ (ٹی ٹی اے پی) کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان سے بھی رابطہ کرے گی۔

اعلیٰ قیادت کی سطح پر پیپلز پارٹی سے رابطے کا امکان بھی زیرِ غور ہے، باوجود اس کے کہ یہ جماعت حکمران اتحاد کا حصہ ہے۔ یہ پیش رفت پشاور میں ایک عوامی اجتماع کے دوران پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کے اعلان کے دو دن بعد سامنے آئی ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ بحال نہ کیا گیا، انہیں اپنے ذاتی معالج سے علاج کی اجازت نہ دی گئی اور عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات کی سماعت نہ ہوئی تو پارٹی وفاقی دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کرے گی۔

انہوں نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو عدالتوں سے امید ختم ہو چکی ہے اور دلیل دی تھی کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کے بعد عدلیہ مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ آفریدی نے مزید کہا کہ پارٹی نے پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقاتوں کے حصول کے لیے ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا، لیکن اس کے مطالبات نہیں سنے گئے۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں