ترک وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ تکنیکی مسائل حل ہونے کے بعد مصر پاک-سعودی-ترکی دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ تکنیکی مسائل حل ہونے کے بعد مصر پاک-سعودی-ترکی دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نےکہا کہ انہیں یقین ہے کہ چند تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد مصر بھی ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘انادولو’ کو بتایا، “مصر تمام معاملات پر پہلے ہی ہمارا فطری شراکت دار ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگلے مرحلے میں مصر بھی اس اتحاد میں ہمارے ساتھ شامل ہوگا۔

ہم پہلے ہی ایک دوسرے کے ساتھ ایسے ہی برتاؤ کرتے ہیں جیسے ہم اتحادی ہوں۔ کچھ تکنیکی مسائل ہیں؛ جب ان پر عمل درآمد ہو جائے گا تو مصر کے اس کا حصہ نہ بننے کی کوئی وجہ نہیں رہے گی۔” جمعہ کو سعودی شہر مکہ میں طے پانے والے ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت (ڈیٹرنس) کو مضبوط بنانا ہے اور یہ تینوں ممالک کو اس بات کا اختیار دیتا ہے کہ وہ ان میں سے کسی ایک پر حملے کو سب پر حملہ تصور کریں۔

فیدان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ تکنیکی اعتبار سے نیٹو (NATO) کے باہمی دفاعی معاہدے کی شق نمبر 5 (Article 5) جیسا ہی ہے۔ نارتھ اٹلانٹک الائنس (نیٹو) کی شق نمبر 5 میں یہ طے ہے کہ اس کے کسی ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ سمجھا جائے گا۔

یہ شق اتحادیوں کو پابند کرتی ہے کہ وہ حملے کی زد میں آنے والے ملک کی مدد کے لیے ضروری سمجھے جانے والے اقدامات کریں، جن میں ممکنہ طور پر فوجی طاقت کا استعمال بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اگرچہ مکہ دفاعی معاہدے میں بھی یہی اصول طے کیا گیا ہے، لیکن فیدان نے وضاحت کی کہ اس کے متن میں عمومی نوعیت کے وعدے شامل ہیں جن کا عملی نفاذ متعلقہ اداروں کے درمیان بات چیت اور فیصلوں پر منحصر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کسی ملک کو مدد کی درخواست کرنی ہوگی اور یہ طے کرنا ہوگا کہ اسے کس قسم کی معاونت درکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطرے کی نوعیت اور شدت کے پیشِ نظر یہ درخواستیں مختلف اقسام کی ہو سکتی ہیں، جن میں انٹیلی جنس اور لاجسٹکس سے لے کر گولہ بارود یا ضرورت پڑنے پر فوجی دستوں کی فراہمی تک شامل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک باہمی مشاورت سے فیصلہ کریں گے کہ حملے کی صورت میں کس حد تک، کس شکل میں اور کس انداز میں مدد طلب کی جائے گی، تاہم جب تک کسی رکن ملک پر حملہ نہ ہو، کسی دوسرے ملک کو خطرہ تصور نہیں کیا جائے گا۔ فیدان نے یہ بھی کہا کہ یہ نیا اتحاد ایران یا کسی اور ملک کے خلاف نہیں ہے، بلکہ یہ تینوں فریقین کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک عمومی عزم کی حیثیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں