جنوبی وزیرستان کی چیک پوسٹ پر حملہ ناکام، چار دہشت گرد ہلاک
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان میں ایک چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش ناکام بنا دی اور کارروائی کے دوران چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت کی حمایت یافتہ ’فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے 25 جولائی کو سیکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ تاہم، سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنا دیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی میں سوار ایک خودکش بمبار کو چیک پوسٹ کی حدود کے باہر ہی ہلاک کر دیا گیا۔ اس کارروائی میں مجموعی طور پر چار دہشت گرد مارے گئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حملہ آور چیک پوسٹ کی سیکیورٹی کو توڑنے میں ناکام رہے اور تنصیب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
سیکیورٹی اہلکاروں نے قریبی عمارت میں تین مزید دہشت گردوں کا گھیراؤ کر کے بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ بعد ازاں کلیئرنس آپریشن کے دوران ان دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز کا کوئی اہلکار زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، علاقے میں بھارت کی حمایت یافتہ خوارجی دہشت گردوں کی باقی ماندہ موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے تلاشی اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ فوج نے کہا کہ ’عزمِ استحکام‘ مہم کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری رہیں گی، اور غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف کوششیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک کہ اس خطرے کا خاتمہ نہ ہو جائے۔
علیحدہ طور پر، صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے حملے کو کامیابی سے ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کی تعریف کی۔ صدر زرداری نے فورسز کے بروقت، بہادرانہ اور پیشہ ورانہ ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو مؤثر طریقے سے ناکام بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز پورے عزم کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر قیمت پر شکست دی جائے گی۔
