انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ جاوا کے قریب فیری الٹنے سے 6 افراد ہلاک اور 129 لاپتہ ہو گئے ہیں۔

انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ جاوا کے قریب فیری الٹنے سے 6 افراد ہلاک اور 129 لاپتہ ہو گئے ہیں۔

انڈونیشیا میں امدادی کارکنوں نے بتایا کہ سمندر میں شدید لہروں کے دوران ایک فیری (بڑی کشتی) کے الٹ جانے سے کم از کم چھ افراد ہلاک اور 129 لاپتہ ہو گئے؛ اس دوران بچ جانے والے ایک شخص نے خوف و ہراس کے مناظر بیان کیے جب مسافر لائف جیکٹس حاصل کرنے کے لیے بھگدڑ مچا رہے تھے۔

’ورگو ٹرانسپورٹ 8‘ نامی اس کشتی کا — جس میں حکام کے مطابق 213 مسافر اور عملے کے 30 ارکان سوار تھے — مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے روانگی کے بعد ہی اپنی شپنگ کمپنی سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ انڈونیشیا کی قومی ادارہ برائے تلاش و بچاؤ، ’باسارناس‘ (Basarnas) نے تصدیق کی کہ اس واقعے میں چھ افراد ہلاک اور 129 لاپتہ ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ 108 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ بچ جانے والے 33 سالہ رنٹو اراہاپ نے اے ایف پی کو بتایا، “لوگ خوف ہراس کا شکار تھے۔ کچھ لوگ میزوں پر چڑھ گئے اور کچھ ایک دوسرے کو دھکے دے رہے تھے۔” انہوں نے بتایا کہ جب صبح تقریباً 2 بجے (پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق ہفتے کی رات 11 بجے) کشتی ایک طرف جھکنے لگی تو بہت سے مسافر سو رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سفر کے تقریباً پانچ گھنٹے بعد انہیں دھات کے ٹوٹنے جیسی آواز سنائی دی۔ اراہاپ کے مطابق، جب کشتی جھکنے لگی اور لہروں کی اونچائی دو میٹر (6.6 فٹ) سے تجاوز کر گئی، تو لوگ چیخنے چلانے لگے اور لائف جیکٹس کے حصول کے لیے آپس میں کشمکش کرنے لگے۔

بنجرماسین کے ایک طبی مرکز میں اسٹریچر پر موجود اراہاپ نے بتایا، “کشتی کے عملے کی جانب سے کوئی انتباہ نہیں دیا گیا۔ درحقیقت، کسی ایک شخص نے پہل کرتے ہوئے چیخنا شروع کیا کہ ’اوہ، کشتی جھک رہی ہے، جھک رہی ہے، جھک رہی ہے‘۔” (بچ جانے والوں کو اسی طبی مرکز میں منتقل کیا گیا تھا)۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں