پاکستان میں پولیو کا نواں کیس سامنے آنے پر وزیراعظم کی جانب سے پولیو کے خاتمے کے لیے مربوط کوششوں پر زور

پاکستان میں پولیو کا نواں کیس سامنے آنے پر وزیراعظم کی جانب سے پولیو کے خاتمے کے لیے مربوط کوششوں پر زور

پاکستان میں رواں سال پولیو کا نواں کیس سامنے آیا ہے، جس کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں اور پولیو ورکرز کے اغوا کے واقعات نے ملک گیر انسدادِ پولیو مہم کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کو نمایاں کر دیا ہے۔

اس تازہ ترین کیس کی تصدیق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں کی گئی، جس میں ملک میں پولیو کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (NEOC) نے یکم نومبر کو ضلع خیبر سے ایک کیس کی تصدیق کی تھی، تاہم جمعرات کو وزیرِ اعظم کو اسی ضلع سے ایک اور کیس سامنے آنے کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

اس تازہ ترین کیس کے بعد پاکستان میں رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی تعداد نو ہو گئی ہے، جن میں سات کا تعلق خیبر پختونخوا اور دو کا سندھ سے ہے۔ یہ پیش رفت اس واقعے کے دو دن بعد سامنے آئی ہے جب 3 نومبر کو ضلع مہمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار فائرنگ کے نتیجے میں شہید اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔ اسی روز، ضلع ٹانک کے گاؤں شیخ اوتار سے چار پولیو ورکرز کو اسلحے کے زور پر اغوا کر لیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق، یہ فائرنگ ضلع مہمند کے علاقے ڈوگ تمنزئی میں اس وقت ہوئی جب اہلکار انسدادِ پولیو مہم کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے جا رہے تھے۔ زخمی پولیس اہلکار کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ ذمہ داروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ ایک اور واقعے میں، مسلح افراد نے ضلع ٹانک میں پولیو ٹیم کے چار ارکان کو اغوا کر لیا۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس اغوا کی مذمت کی اور ورکرز کی بحفاظت بازیابی کے لیے فوری کوششیں کرنے پر زور دیا۔ یہ واقعات ان خطرات کو اجاگر کرتے ہیں جن کا سامنا پولیو ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کچھ حصوں میں، جہاں حملوں، اغوا اور ویکسینیشن کا سامان چھین لیے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں