اسرائیلی آباد کاروں کا ویسٹ بینک میں تشدد کی کوریج کرنے والے امریکی فوٹوگرافر پر حملہ

اسرائیلی آباد کاروں کا ویسٹ بینک میں تشدد کی کوریج کرنے والے امریکی فوٹوگرافر پر حملہ

اسرائیلی آباد کاروں نے ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کے لیے کام کرنے والی ایک امریکی فوٹو جرنلسٹ کو اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی زیتون کے کاشتکاروں کے خلاف جاری تشدد کی کوریج کر رہی تھیں۔ اس حملے کے بعد، تجربہ کار فوٹوگرافر ہائیڈی لیون کو رام اللہ کے ایک ہسپتال لے جایا گیا۔

اے ایف پی (AFP) کی تصاویر میں انہیں ایک سٹریچر پر لیٹے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس میں ان کی ٹانگ اور ہاتھ پر زخم نمایاں ہیں۔ یہ واقعہ اس واقعے کے 10 دن بعد پیش آیا ہے جب آباد کاروں نے مغربی کنارے میں زیتون کی کٹائی کی کوریج کرنے والے اے ایف پی کے فوٹوگرافر جعفر اشتیہ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں انہیں بھی ہسپتال میں علاج کروانا پڑا تھا۔

ہسپتال کے بستر سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، لیون نے بتایا کہ جب وہ وسطی مغربی کنارے میں فلسطینی دیہات ’ابو فلاح‘ اور ’ترمسیہ‘ کے قریب کام کر رہی تھیں، تو اچانک لاٹھیاں تھامے ہوئے 50 سے زائد نقاب پوش آباد کاروں نے ان پر حملہ کر دیا۔

انہوں نے کہا، “اچانک وہ مجھ پر ٹوٹ پڑے؛ خوش قسمتی سے میں نے ہیلمٹ اور ’فلیک جیکٹ‘ (حفاظتی جیکٹ) پہن رکھی تھی، اور میں نے… اپنے چہرے کو بچانے کی کوشش میں اسے زمین کی طرف کر لیا۔” انہوں نے مزید کہا، “وہ مسلسل مجھے لاتیں مارتے رہے۔” ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق، لیون نے جو حفاظتی جیکٹ پہن رکھی تھی، اس کے آگے اور پیچھے واضح طور پر ’پریس‘ (Press) لکھا ہوا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں