امریکہ کے نئے قوانین بین الاقوامی طلبہ کے امریکہ میں قیام کے طریقہ کار کو تبدیل کرتے ہیں۔
امریکی امیگریشن کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی کا اطلاق ہونے والا ہے، جس کے تحت بین الاقوامی طلبہ کو اس بات کا زیادہ باریکی سے خیال رکھنا ہوگا کہ انہیں ملک میں قیام کی کتنی مدت کی اجازت دی گئی ہے۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) F-1 ویزا کے حامل طلبہ کے لیے “اسٹیٹس کی مدت” (duration of status) کے طویل عرصے سے رائج نظام کو ختم کر رہا ہے اور اس کی جگہ داخلے کی ایک مقررہ مدت کا نظام متعارف کروا رہا ہے۔ نئے اصول کے تحت، F-1 طلبہ کو عام طور پر ان کے ‘فارم I-20’ پر درج تعلیمی پروگرام کی مدت (زیادہ سے زیادہ چار سال تک) کے لیے داخلہ دیا جائے گا۔ اس میں پروگرام شروع ہونے سے قبل آمد کے لیے 30 دن اور پروگرام یا تعلیم مکمل ہونے کے بعد کی مجاز ٹریننگ (post-completion training) کے اختتام پر روانگی کی تیاری کے لیے مزید 30 دن کی مہلت شامل ہوگی۔ جو طلبہ اپنا موجودہ پروگرام مکمل کرنے، نیا پروگرام شروع کرنے، یا تعلیم مکمل کرنے کے بعد کی OPT یا STEM OPT ٹریننگ کرنے کے لیے اضافی وقت چاہتے ہیں، انہیں مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔ وہ قیام میں توسیع کے لیے ‘یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز’ (USCIS) کو درخواست دے سکتے ہیں، یا پھر امریکہ چھوڑ کر واپسی پر ‘کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن’ سے داخلے کی نئی مدت حاصل کر سکتے ہیں۔ DHS طلبہ کو مشورہ دیتا ہے کہ توسیع کی درخواست دینے سے قبل وہ اپنے کالج کے نامزد کردہ اسکول عہدیدار (Designated School Official) سے رابطہ کریں۔ توسیع کے خواہشمند طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپ ڈیٹ شدہ ‘فارم I-20’ پر مناسب سفارش حاصل کرنے کے بعد USCIS کے پاس ‘فارم I-539’ جمع کروائیں۔
