اسرائیلی انتخابات قریب آتے ہی نیتن یاہو کے اتحادیوں نے غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے مطالبات دوبارہ دہرائے ہیں۔

اسرائیلی انتخابات قریب آتے ہی نیتن یاہو کے اتحادیوں نے غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے مطالبات دوبارہ دہرائے ہیں۔

اس ہفتے اسرائیل کے دو وزراء نے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر منتقل کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ یہ خیال دائیں بازو کے سیاست دانوں کی جانب سے گزشتہ تین سالوں کے دوران بار بار دہرایا جاتا رہا ہے کیونکہ وہ انتخابات سے قبل اپنے حامیوں کو متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دو سیاسی اتحادیوں کی جانب سے ان مطالبات نے فلسطینیوں کے اس خدشے کو دوبارہ تازہ کر دیا ہے کہ اسرائیل کا حتمی مقصد انہیں غزہ سے زبردستی بے دخل کرنا ہے، حالانکہ وہاں تنازعہ ختم کرنے کے لیے امریکہ کی قیادت میں سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

انتہائی دائیں بازو کے سکیورٹی وزیر اِتامار بین گویر نے جمعرات کی رات ایک پریس کانفرنس کے دوران “رضاکارانہ ہجرت” کے ذریعے غزہ کی آبادی کو منتقل کرنے کا سات سالہ منصوبہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اگلی حکومت میں “ہجرت کے امور کی وزارت” کے قیام کی کوشش کریں گے۔

بین گویر کی ‘جیوش پاور’ (Jewish Power) پارٹی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ترکی، ایتھوپیا اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو پر ممکنہ مقامات کے طور پر غور کیا جا رہا ہے۔ غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل الثوابتہ نے کہا، “فلسطینی عوام اپنی سرزمین سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور اس طرح کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔” اسرائیل میں 27 اکتوبر کو عام انتخابات ہونے والے ہیں۔

یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی مہم کے بعد پہلے انتخابات ہوں گے جس نے 20 لاکھ سے زائد آبادی والے غزہ کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔ امریکہ کی حمایت یافتہ جنگ بندی نے بڑے پیمانے پر جاری لڑائی کو تو روک دیا، لیکن اس سے نہ تو اسرائیلی حملے بند ہوئے اور نہ ہی مستقل امن کے منصوبے پر کوئی پیش رفت ہوئی۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں