سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی مخالفت میں قرارداد منظور کر لی۔
سندھ اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی جس میں سندھ میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی مخالفت کی گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما نثار احمد کھوڑو نے صوبائی اسمبلی میں یہ قرارداد پیش کی۔ قرارداد کی منظوری کے بعد اجلاس جمعہ کی دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
مراد علی شاہ کی سندھ کو ’تقسیم‘ کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف تنبیہ اس سے قبل، صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے خبردار کیا کہ سندھ کو تقسیم کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہوگی؛ اس دوران اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر گرما گرم بحث بھی ہوئی۔
یہ بحث نثار کھوڑو کی جانب سے پیش کردہ تحریکِ التوا کے بعد ہوئی، جس پر پی پی پی کی قیادت نے تفصیلی بحث کا فیصلہ کیا تھا تاکہ حکومتی اور اپوزیشن دونوں بینچوں کے قانون ساز اس حساس مسئلے پر اپنے مؤقف کا اظہار کر سکیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ اس بحث نے ایوان کے سامنے مختلف نقطہ نظر لانے کا موقع فراہم کیا ہے؛ انہوں نے زور دیا کہ سندھ سے متعلق معاملات پر ٹیلی ویژن پروگراموں یا دیگر فورمز کے بجائے سندھ اسمبلی میں ہی بحث اور فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی پر متضاد مؤقف اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو اپوزیشن سندھ کی تقسیم کی مخالفت کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن دوسری جانب انتظامی یونٹس سے متعلق تجاویز صوبے کے موجودہ جغرافیائی اور سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کر سکتی ہیں۔
