عظمیٰ نے سپریم کورٹ میں ایک اور توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی
قید میں موجود سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے سپریم کورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت حکومتی عہدیداروں کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔ اس درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی کی اپنے اہل خانہ سے ملاقاتوں اور بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات چیت کا انتظام کرنے سے متعلق عدالت کی سابقہ ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ عبوری حکم 18 اگست کو جاری کیا گیا تھا، جس میں سپریم کورٹ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ عمران خان کو طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، اور ساتھ ہی ان کی اہل خانہ سے ہفتے میں ایک بار ملاقات اور بیٹوں سے ہفتے میں دو بار ٹیلی فون پر بات چیت کی سہولت فراہم کی جائے۔
عظمیٰ خان نے اس حکم کے سلسلے میں بدھ کو توہینِ عدالت کی دوسری درخواست دائر کی۔ اس سے قبل وہ 22 اگست کو بھی عدالت سے رجوع کر چکی تھیں اور ان ذمہ داران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی استدعا کی تھی جنہوں نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بجائے سرکاری ہسپتال ‘پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز’ (پمز) منتقل کیا تھا۔
ایڈووکیٹ عزیر کرامت بھنڈاری کے توسط سے دائر کی گئی اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پہلی درخواست کے مندرجات کو دوسری درخواست کا لازمی حصہ سمجھا جائے۔ پہلی درخواست کی طرح، دوسری درخواست میں بھی اسلام آباد کے چیف کمشنر (ریٹائرڈ) لیفٹیننٹ سہیل اشرف، سیکرٹری داخلہ احمد رضا سرور، پنجاب کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) جیل خانہ جات میاں سالک جلال، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ساجد بیگ اور وزیراعظم شہباز شریف کو فریق بنایا گیا ہے۔
