ماحول دوست توانائی کے مستقبل میں ایک زبردست پیش رفت کے طور پر جیسا کہ فیوژن توانائی کے میدان میں اہم تبدیلیوں کا باعث بن سکتی ہے، Nvidia، Google، اور سرمایہ کار Stanley Druckenmiller نے مشترکہ طور پر Commonwealth Fusion Systems (CFS) کی تازہ سرمایہ کاری میں حصہ لیا ہے—جہاں انہوں نے تقریباً 860 ملین ڈالر کی شراکت کی ہے، جس سے اس کی کل سرمایہ کاری تقریباً 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے—یعنی اسے دنیا کی سب سے زیادہ سرمایہ کاری پانے والی فیوژن توانائی کمپنی بنا دیا گیا ہے۔
CFS نے SPARC نامی ایک تجرباتی فیوژن پلانٹ کی تیاری کا آغاز کیا ہوا ہے، جو کہ ماساچوسیٹس میں واقع ہے اور 2030 کی دہائی کے شروع میں کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ گوگل نے پہلے ہی اس سے توانائی خریدنے کا معاہدہ کر لیا ہے، جس سے اس ٹیکنالوجی کی حقیقی دنیا میں قبولیت اور اس کے ارتقاء کا، عملی طور پر ثبوت ملتا ہے۔
اہم پہلو:
نیو-کلئیر فیوژن کا مستقبل: یہ ٹیکنالوجی روایتی جوہری کا عمل (Fission) کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، زیادہ توانائی والے اور کم فضلہ پیدا کرنے والے متبادل کی صورت پیش کرتی ہے — اور یہ سرمایہ کاری اس شعبے میں اعتماد کی علامت ہے۔
کلائمٹ ٹیک کا زوردار قدم: CFS میں اس سرمایہ کاری کا عمل، ماحولیاتی شعبے میں سرمایہ کاری کی سب سے بڑی مثالوں میں سے ایک ہے—یہ بحیثیت مجموعی کلائمٹ ٹیک میں دلچسپی اور امکانات کو واضح کرتا ہے۔
بین الاقوامی تعاون کی مثال: IBM، گوگل، Nvidia اور دیگر عالمی اداروں کی شمولیت سے یہ منصوبہ صرف ایک سائنسی تجربہ نہیں بلکہ ایک عالمی سٹریٹجک پلیٹ فارم کے طور پر ابھرتا ہے۔