ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستوں پر عمان کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستوں پر عمان کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان کئی ہفتوں کی تکنیکی بات چیت کے بعد آبنائے ہرمز کے لیے جہاز رانی کے روٹ (راستے) کے نقشے پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔ بقائی نے بتایا کہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے ملحقہ ساحلی ممالک، ایران اور عمان نے محفوظ جہاز رانی کے راستے قائم کرنے کے لیے 18 جون کو مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد تین ماہ قبل تفصیلی مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔

انہوں نے کہا، “امریکی رکاوٹوں کے باوجود، گزشتہ تین ہفتوں کے دوران مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور جہاز رانی کے روٹ کے نقشے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔” بقائی نے کہا کہ یہ منصوبہ وزارت خارجہ کی قیادت میں ایران کے دفاعی، سیکیورٹی اور ماحولیاتی حکام کے اشتراک سے کی گئی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین ابھی بھی دیگر اہم امور پر بات چیت کر رہے ہیں، جن میں تہران اور مسقط کی جانب سے جاری کیا جانے والا مشترکہ بیان بھی شامل ہے، اور اس عمل کی تکمیل تک دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری رہیں گے۔

بقائی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور عمان کے درمیان یہ انتظام دونوں ساحلی ممالک کے مابین ایک آزادانہ معاہدہ ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے آبنائے سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ آبنائے میں سیکیورٹی کی مکمل بحالی اور معمول کی تجارتی جہاز رانی کی بحالی کا انحصار ان اقدامات کے خاتمے پر ہے جنہیں انہوں نے امریکہ کی غیر قانونی کارروائیاں، فوجی دھمکیاں اور بحری ناکہ بندی قرار دیا؛ اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ دو ماہ کے دوران امریکہ کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزیوں کے ازالے پر بھی اس کا انحصار ہے۔

یہ بات چیت ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے تحت شروع کیے گئے تکنیکی مذاکرات کا حصہ ہے، جس کے تحت تہران اور مسقط کو آبنائے ہرمز کے لیے جہاز رانی کا نیا ڈھانچہ تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اگرچہ ایران اور عمان جہاز رانی کے راستوں پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن تہران نے بارہا کہا ہے کہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کا کوئی بھی فیصلہ اس بات پر منحصر ہے کہ امریکہ مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں