انڈونیشیا کے قریب شدید زلزلے سے 20 افراد ہلاک، بڑے پیمانے پر انخلاء کا عمل شروع

انڈونیشیا کے قریب شدید زلزلے سے 20 افراد ہلاک، بڑے پیمانے پر انخلاء کا عمل شروع

مشرقی انڈونیشیا کے جزیرے فلورس کے قریب شدید زلزلے کے بعد، جس میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور ہزاروں نقل مکانی پر مجبور ہوئے، ہفتے کے روز امدادی کارکنوں نے ملبے تلے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کا کام جاری رکھا۔

جیسے جیسے تباہی کی وسعت کا اندازہ ہوا، امدادی کارروائیوں کے عہدیدار فتح الرحمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ سیاحوں میں مقبول اس جزیرے کے چار مختلف قصبوں میں کم از کم 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

فتح الرحمان نے ‘ناگیکیو ریجنسی’ (سب سے زیادہ متاثرہ علاقے) کی طرف جاتے ہوئے کشتی سے ٹیلی فون پر بتایا، “ہمیں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 20 افراد ہلاک، چھ زخمی اور دو اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔”

7.7 شدت کے زلزلے کے بعد پڑوسی علاقے ‘منگگارائی ریجنسی’ میں بھی دو افراد کے ملبے تلے زندہ پھنسے ہونے کی اطلاع ملی۔

فتح الرحمان نے کہا، “ہماری توجہ ملبے تلے دبے متاثرین کو تلاش کرنے پر مرکوز ہوگی،” انہوں نے مزید کہا کہ لینڈ سلائیڈنگ (تودے گرنے) کے باعث کئی سڑکیں بند ہونے سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے دیکھا کہ زلزلے کے مرکز کے قریب ترین علاقے ‘ناگیکیو’ کے رہائشیوں نے ہفتے کے روز سمندری پانی پیچھے ہٹنے پر اونچے مقامات کی طرف بھاگنا شروع کر دیا، جو ممکنہ طور پر سونامی کی آمد کی علامت ہو سکتی ہے۔

بعد ازاں سونامی کی وارننگ تو واپس لے لی گئی لیکن لوگوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ تباہ شدہ عمارتوں میں واپس نہ جائیں کیونکہ خدشہ ہے کہ آفٹر شاکس (زلزلے کے بعد کے جھٹکوں) سے وہ گر سکتی ہیں۔

اب تک درجنوں آفٹر شاکس محسوس کیے جا چکے ہیں جن میں سب سے شدید جھٹکے کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں