میزائلوں کے ذخیرے سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان امریکہ نے 58.6 ارب ڈالر کا پیٹریاٹ میزائل معاہدہ کر لیا۔

میزائلوں کے ذخیرے سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان امریکہ نے 58.6 ارب ڈالر کا پیٹریاٹ میزائل معاہدہ کر لیا۔

پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج نے پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی تیاری کے لیے لاک ہیڈ مارٹن کو 58.6 ارب ڈالر تک مالیت کا ٹھیکہ دیا ہے؛ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران اور یوکرین میں جاری تنازعات کے باعث امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو بڑی مقدار میں ہتھیار فراہم کیے ہیں اور ساتھ ہی ایران میں اپنے فوجی آپریشنز میں بھی گولہ بارود کا استعمال کیا ہے، جس سے فضائی دفاع اور درست ہدف کو نشانہ بنانے والے (پریسیژن گائیڈڈ) اہم ہتھیاروں کے ذخائر کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

فوج کے مطابق، لاک ہیڈ کو دیا گیا یہ نیا ٹھیکہ اپریل میں طے پانے والے 4.7 ارب ڈالر مالیت کے ایک سالہ معاہدے کو سات سالہ معاہدے میں تبدیل کرتا ہے، جس کے تحت مالی سال 2026 سے 2032 تک ان انٹرسیپٹرز کی خریداری کا کثیر سالہ منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے۔

پینٹاگون کے مذاکرات کار ٹھیکیداروں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ کام کی رفتار میں نمایاں اضافہ کریں؛ اس سلسلے میں رواں سال کے اوائل میں طے پانے والے ابتدائی پیداواری معاہدے میزائلوں کی پیداوار بڑھانے کی کوششوں کا مرکزی نقطہ ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھی دفاعی ٹھیکیداروں پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ شیئر ہولڈرز کو منافع کی ادائیگی کے بجائے پیداوار کو ترجیح دیں۔

ٹرمپ نے جنوری میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد ایسے ٹھیکیداروں کی نشاندہی کرنا تھا جو سرکاری ٹھیکوں پر کام کے دوران ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود شیئر ہولڈرز میں منافع کی تقسیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

صنعت کے اعلیٰ عہدیداروں نے پیداواری معاہدوں کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے پرزہ جات اور پیداواری صلاحیت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے سے قبل کانگریس کو فنڈز کی منظوری دینی ہوگی۔ پینٹاگون کے گولہ بارود سے متعلق کئی معاہدوں کی حتمی شرائط اور ترسیل کی تاریخوں پر ابھی بھی بات چیت جاری ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں