پیپر لیک ہونے پر ہونے والے احتجاج کے بعد بھارت اپنے عوامی امتحانی نظام میں کس طرح اصلاحات لا رہا ہے؟
امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات نے ملک کے بھرتی اور جانچ کے عمل میں موجود کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا تھا، جس کے بعد بھارت نے اپنے عوامی امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے تجاویز کا ایک نیا سلسلہ متعارف کرایا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا جس کا مقصد عوامی امتحانات کے قانونی ڈھانچے میں ترامیم کرنا ہے۔
یہ مجوزہ قانون سازی شفافیت کو بڑھانے، سیکیورٹی کو سخت کرنے اور مسابقتی امتحانات پر اعتماد بحال کرنے کی جاری کوششوں کا تازہ ترین قدم ہے۔ یہ اصلاحات نوجوان ملازمت کے متلاشی افراد کی جانب سے ہفتوں تک جاری رہنے والے ملک گیر مظاہروں کے بعد سامنے آئی ہیں۔
مئی میں متعدد امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھرتی کے نظام میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا تھا۔ ذیل میں ان اہم اقدامات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے جنہیں بھارتی حکومت عوامی امتحانی عمل میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کے حصے کے طور پر نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اصلاحات کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ بھارت نے ‘نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ’ (NEET)—جو ملک میں انڈر گریجویٹ میڈیکل اسکول میں داخلے کا امتحان ہے—کو اس وقت منسوخ کر دیا جب اس کے سوالیہ پرچے لیک ہو گئے، جس کے نتیجے میں تقریباً 20 لاکھ امیدواروں کو دوبارہ امتحان دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس امتحان کی منسوخی کا تعلق طلبہ کی جانب سے خودکشی کے ایک درجن سے زائد واقعات سے بھی جوڑا گیا۔
امتحان منسوخ ہونے پر دہلی اور دیگر شہروں میں ہزاروں لوگوں نے احتجاج کیا، جس کے باعث وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو گزشتہ ہفتے استعفیٰ دینا پڑا، جبکہ وزیر اعظم مودی نے پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
کون سی ترامیم تجویز کی گئی ہیں؟ امتحانی نظام کو مضبوط بنانے اور ساتھ ہی مقدمات کی تیز رفتار سماعت اور مقررہ مدت میں تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے ‘پبلک ایگزامینیشنز ایکٹ’ (عوامی امتحانات کا قانون) میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ یہ قانون 2024 میں NEET امتحان کے پرچے لیک ہونے جیسے واقعات کے بعد بنایا گیا تھا۔ 2024 کے اس قانون میں مختلف قسم کے خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سزائیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں غیر منصفانہ ذرائع (نقل وغیرہ) کا سہارا لینے والے، امتحان کے انعقاد میں مدد کرنے والی کمپنیاں اور امتحانی اتھارٹی کے ذمہ داران شامل ہیں۔
