زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس یوکرین جنگ میں 30 ہزار شمالی کوریائی فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں شرکت کے لیے شمالی کوریا کے 30 ہزار فوجیوں کو لانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ہفتے کے روز اپنے رات کے ویڈیو خطاب میں زیلنسکی نے کہا کہ ماسکو پہلے ہی روس کے علاقے وورونیش (Voronezh) میں شمالی کوریا کی اضافی فوج کی آمد کے لیے تیاریاں کر رہا ہے، اور اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں انتظامات جون سے جاری ہیں۔
زیلنسکی نے کہا، “روس شمالی کوریا کے مزید 30 ہزار فوجی لانا چاہتا ہے،” اور مزید کہا کہ پیانگ یانگ روس کو بیلسٹک میزائلوں کے نئے لانچرز فراہم کرنے کی بھی تیاری کر رہا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق، شمالی کوریا اس سے قبل 2024 میں باہمی دفاعی معاہدے کے تحت روس کے علاقے کرسک (Kursk) میں اندازاً 14 ہزار فوجی بھیج چکا ہے، جس سے ماسکو کو یوکرین کی جانب سے کی گئی ایک بڑی فوجی پیش قدمی کو پسپا کرنے میں مدد ملی۔
زیلنسکی نے خبردار کیا کہ شمالی کوریا کے ساتھ روس کا عسکری تعاون میدانِ جنگ تک محدود نہیں ہے؛ انہوں نے کہا کہ ماسکو پیانگ یانگ کی ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور جنگی تجربہ حاصل کرنے میں مدد کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بڑھتی ہوئی شراکت داری نہ صرف یوکرین بلکہ ایشیا کے ان ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے جو شمالی کوریا کے میزائلوں کی زد میں ہیں۔ یوکرین کے صدر نے عزم ظاہر کیا کہ کیف اس بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرے کا جواب دینے کے لیے اقدامات کرے گا۔
