ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کو امریکہ میں گرفتار نہیں کیا جائے گا، جبکہ نیویارک کے میئر مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو امریکہ کے کسی بھی دورے کے دوران گرفتاری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے یہ بات نیویارک شہر کے میئر زہران مامدانی کے ان بیانات کے جواب میں بالواسطہ طور پر کہی جن میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC)
کے وارنٹ کے نفاذ کا ذکر کیا گیا تھا۔ ٹروتھ سوشل‘ (Truth Social) پر اپنے پیغام میں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ملک میں قیام کے دوران نیتن یاہو کو “کسی بھی صورت یا شکل میں” گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ اگرچہ امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں مامدانی کا براہِ راست نام نہیں لیا، لیکن انہوں نے ایران کے ساتھ تنازع میں اسرائیل کی معاونت کا اعتراف کیا۔
نیویارک میں قانونی پہلو
یہ پیش رفت میئر مامدانی کے بیانات کے بعد سامنے آئی ہے جنہوں نے جنوری میں عہدہ سنبھالا تھا۔ ہفتے کے روز نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں مامدانی نے انکشاف کیا کہ نیویارک شہر کا قانونی محکمہ فعال طور پر اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ مقامی قانون کس قسم کی کارروائی کی اجازت دیتا ہے۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران، انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر نیتن یاہو نے نیویارک میں قدم رکھا تو شہر کی پولیس انہیں گرفتار کر لے گی۔
نیویارک ٹائمز کے ویڈیو پوڈ کاسٹ پر گفتگو کرتے ہوئے مامدانی نے کہا کہ نیتن یاہو کی جگہ ہیگ (The Hague) میں ہے اور انہیں ایک ایسا جنگی مجرم قرار دیا جن پر آئی سی سی نے فردِ جرم عائد کی ہے۔ روایتی طور پر نیتن یاہو ہر سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں کے سالانہ اجتماع کے لیے نیویارک کا دورہ کرتے ہیں۔
اختیارِ سماعت (Jurisdiction) اور اسرائیل کا ردعمل
اسرائیل نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (X) پر ایک پوسٹ کے ذریعے مامدانی کے تبصروں پر ردعمل ظاہر کیا۔ اسرائیل نے آئی سی سی کو “کینگرو کورٹ” (غیر منصفانہ یا جعلی عدالت) قرار دیا اور گرفتاری کے وارنٹ کو بے بنیاد قرار دیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ میئر اسرائیل کی قیادت پر تنقید کر کے عوام کی توجہ اپنی کوتاہیوں سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
آئی سی سی کا قیام 2002 میں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات چلانے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ ہیگ میں قائم اس ٹربیونل نے 2024 میں غزہ تنازع کے دوران مبینہ جنگی جرائم پر نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ اسرائیل اور امریکہ دونوں ہی اس عدالت کے رکن نہیں ہیں؛ اسرائیل اس کے اختیارِ سماعت کو تسلیم نہیں کرتا اور جنگی جرائم کے ارتکاب کی تردید کرتا ہے۔
مامدانی اور ٹرمپ کے درمیان گزشتہ نومبر میں میئر کے انتخابات کے بعد وائٹ ہاؤس میں غیر متوقع طور پر دوستانہ ملاقات ہوئی تھی، حالانکہ اس سے قبل وہ عوامی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف سخت الفاظ کا تبادلہ کر چکے تھے۔
مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں
