یمن میں تربیتی کیمپ پر حوثی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 73 ہو گئی
صوبائی میڈیا آفس کے مطابق، یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے صوبہ شبوہ میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے تربیتی کیمپ پر کیے گئے حملے میں 73 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ لڑائی میں شدت آنے کے ساتھ ہی پیر کے روز ہونے والے اس حملے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ چودہ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ایران کے حامی حوثیوں اور سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد کی حمایت یافتہ، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے درمیان ستمبر سے حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب حوثی گروپ نے بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع اہم بحری گزرگاہ، ’باب المندب‘ کے قریب علاقوں کی جانب پیش قدمی کی۔
مقامی حکام نے بتایا کہ پیر کے روز تربیت کے دوران سکیورٹی فورسز پر تین بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ رائٹرز کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیو میں زخمی افراد اور خون آلود لاشیں زمین پر بکھری ہوئی دکھائی دیں۔ صوبائی گورنر عوض الوزیر کے مطابق، اس واقعے میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
حوثیوں کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ اس کیمپ کو سعودی فورسز چلا رہی تھیں۔ سعودی حکام کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یمنی سرکاری فورسز نے رواں ماہ حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا ہے، جس کے دوران انہوں نے مذکورہ بحری گزرگاہ کے قریب کچھ علاقے دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ دوسری جانب، حوثیوں نے تعز کا محاصرہ کر رکھا ہے، جو یمن کے جنوبی پہاڑی علاقوں میں حوثی مخالف قوتوں کا آخری بڑا شہری گڑھ ہے۔
