مصنوعی ذہانت (AI) بظاہر انسان جیسی لگ سکتی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ لوگ اسے صاحبِ شعور سمجھتے ہیں۔
ایک نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ مصنوعی ذہانت (AI) کے انسانی طرزِ عمل کو انسانی شعور کے مترادف نہیں سمجھتے۔ مصنوعی ذہانت آوازوں پر ردعمل ظاہر کر سکتی ہے، جذبات کو پہچان سکتی ہے، اپنے ماحول کے مطابق ڈھل سکتی ہے اور ایسے انداز میں برتاؤ کر سکتی ہے جو انسانی ردعمل سے بہت ملتا جلتا ہو۔
اس کے باوجود، لوگ یہ ماننے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں کہ اس طرح کا رویہ شعور کی عکاسی کرتا ہے۔ LMU کی ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب ایک AI نظام اور کوئی انسان یکساں حالات میں بالکل ایک جیسا رویہ اختیار کرتے ہیں، تب بھی لوگ AI کو کم باشعور سمجھتے ہیں۔
جب شرکاء سے “آگاہی” (awareness) کے بارے میں پوچھا گیا تو یہ فرق بہت کم تھا؛ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مصنوعی ایجنٹس (artificial agents) کی وضاحت کے لیے استعمال ہونے والی زبان اس بات پر گہرا اثر ڈالتی ہے کہ ان کی ذہنی صلاحیتوں کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
انسانی رویہ انسانی شعور کے برابر نہیں ہے ‘Cognition’ جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی قیادت LMU کے ‘فلاسفی آف مائنڈ’ (فلسفہِ ذہن) کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹر لوئس لونگن (Louis Longin) نے کی، جن کے ساتھ ڈاکٹر بہادر بہرامی، پروفیسر اوفیلیا ڈیرائے اور دیگر معاونین بھی شامل تھے۔ محققین رویے سے متعلق فیصلوں اور شعور سے متعلق فیصلوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا چاہتے تھے۔ لونگن کہتے ہیں، “
جہاں پچھلی تحقیقات میں عام طور پر یہ سوالات پوچھے جاتے رہے ہیں کہ آیا AI میں واقعی ذہنی کیفیات (mental states) پائی جاتی ہیں یا نہیں، وہیں ہماری تحقیق پہلی ایسی کوشش ہے جس میں براہِ راست موازنہ کیا گیا ہے کہ لوگ کس طرح یکساں حالات میں بالکل ایک جیسا رویہ رکھنے والے AI اور انسانوں سے انہی ذہنی کیفیات منسوب کرتے ہیں۔”
