گرفتار پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات پارٹی کی پہنچ سے باہر رہی، جب کہ جیل میں بند پارٹی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سابق وزیر اعظم کے بارے میں اپنے رویے پر نظر ثانی کرے۔
بدھ کو پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے عمران سے ملاقات کے لیے چھ افراد کی فہرست جاری کی تھی۔ فہرست میں ایم این اے شاہد خٹک، شبیر علی قریشی، جاوید وڑائچ، عادل بازئی، سہیل سلطان اور میجر (ر) فیاض احمد بھی شامل تھے۔
عدالت عظمیٰ کی ہدایت پر فہرست جیل حکام کو بھجوا دی گئی۔ تاہم جمعرات کو قریشی نے بتایا کہ جب وہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ اڈیالہ جیل پہنچے تو انہیں عمران سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
“ہم دوپہر 1:30 بجے پہنچے تھے اور جیل انتظامیہ کو بتایا کہ عدالت کی ہدایت کے مطابق ہمیں خان صاحب سے ملنے کی اجازت دی جائے، انہوں نے ہمیں بتایا کہ نام منظوری کے لیے بھیجے گئے ہیں، اور ہمیں انتظار کرنے کا مشورہ دیا”۔
قریشی نے کہا کہ وہ سہ پہر 3 بجے تک انتظار کرتے رہے جو کہ رمضان میں جیل ملاقاتوں کا کٹ آف ٹائم تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ جیل حکام کو ملاقات کی منظوری کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
دریں اثنا، لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کے پانچ سینئر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پارٹی اور عمران کے بارے میں اپنے رویے پر نظر ثانی کرے۔
ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی رہنماؤں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید اور عمر سرفراز چیمہ نے پی ٹی آئی سینٹرل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ “قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی اور عمران خان کے بارے میں اپنے رویے پر نظر ثانی کرے۔”
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارٹی کے نائب چارمین قریشی کو عمران تک رسائی دی جانی چاہیے تاکہ وہ “ہمارا سیاسی نقطہ نظر شیئر کریں”۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان، “ذمہ دار اپوزیشن کے اپنے کردار سے دستبردار نہیں ہوسکتے”۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک طویل علاقائی تنازعہ، جو مشرق وسطیٰ میں تنازعات کا بظاہر حوالہ ہے، پاکستان کی اقتصادی سلامتی کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔