گزشتہ روز یوکرین کے دارالحکومت کیِف پر روس کی جانب سے کیے گئے مضبوط میزائل اور ڈرون حملے نے شدید انسانی نقصان اور تباہی مچائی۔ ان حملوں میں 17 شہری ہلاک ہوئے، جن میں کم از کم چار بچے شامل تھے۔ متعدد عطائی اور شہری عمارتیں بھی نشانہ بنیں، جن میں EU ڈیلیگیشن اور برٹش کونسل کی عمارات شامل ہیں — جو واضح طور پر سفارتی اہداف تھے۔
اس واقعے نے یورپ اور بین الاقوامی برادری کو سرگرم کیا، اور برطانیہ و یورپی یونین نے فوری طور پر روس کے متعلقہ سفارتکاروں کو طلبی کا نوٹس دیا، جبکہ سائمن وولکن، یورپین کمیشن کی صدر، اور برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے سنجیدگی سے پابندیاں سخت کرنے کا مطالبہ کیا۔
ترکی نے دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے امن کی کوششوں میں اپنا کردار بڑھانے کی تیاری بھی ظاہر کی۔ روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، تاہم یورپی رہنماؤں اور اقوام متحدہ نے ردعمل میں اس اقدام کو “نہایت متعمدانہ حملہ” قرار دیا۔
کلیدی نکات:
جانی نقصان: افراد مارے گئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں—یہ حملہ نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی اور انسانی اڈوں کو بھی نشانہ بنا۔
بین الاقوامی ردعمل: یورپ اور برطانیہ نے سخت اقدامات کا اعلان کیا، اور فوری طور پر روس کے سفارتکاروں کو طلب کیا۔
عالمی ہمدردی: ترکی نے ثالثی کی پیشکش دی، جب کہ اقوام متحدہ کے رہنما نے اس حملے کی مذمت کی۔