ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، سی ڈی ایف منیر پیر کو تہران کا دورہ کریں گے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران کا دورہ کریں گے تاکہ خطے میں امن و امان کے قیام کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سی ڈی ایف منیر ایک سرکاری وفد کی قیادت کریں گے اور اس دورے کا مقصد ایران اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے میں امن و امان کے فروغ کے لیے پاکستان کی مصالحتی کوششوں کو جاری رکھنا ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ دورے کے دوران سی ڈی ایف منیر ایران کے اعلیٰ حکام سے ملاقات اور بات چیت کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور ایران نے امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی ان ممکنہ پابندیوں کے جواب میں فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے جو اسلامی جمہوریہ کی پہلے ہی کمزور معیشت پر مزید بوجھ ڈال سکتی ہیں۔
یہ دورہ پیر کے روز متوقع پابندیوں کی تفصیلات کے اعلان کے ساتھ ہی ہوگا؛ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایران پر عائد کی جانے والی “تاریخ کی سخت ترین پابندیاں” ہوں گی۔ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ جو بھی ملک “ایران کو کسی بھی قسم کی لائف لائن (بقا کا سہارا)” فراہم کرے گا اسے معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ وہ اسلامی جمہوریہ کو تنہا کرنے کے خواہاں ہیں۔
آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل عملی طور پر تعطل کا شکار ہے کیونکہ تہران نے اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی غیر مجاز آئل ٹینکر پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے، جبکہ ایران کی معیشت پہلے ہی پابندیوں کے شدید دباؤ کا شکار ہے۔
