سمندر کے کنارے رہنا اتنا صحت بخش نہیں ہو سکتا جتنا بظاہر لگتا ہے۔

سمندر کے کنارے رہنا اتنا صحت بخش نہیں ہو سکتا جتنا بظاہر لگتا ہے۔

سمندر کے کنارے صحت مند زندگی گزارنے کا امکان ساحلی علاقے کی بجائے اس بات پر زیادہ منحصر ہو سکتا ہے کہ وہاں سے نقل مکانی کرنے کی استطاعت کس کے پاس ہے۔

انگلینڈ اور ویلز کے لوگوں پر کی گئی ایک طویل مدتی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جو بالغ افراد ساحلی بستیوں میں مقیم رہے یا ساحلی علاقوں میں منتقل ہوئے، ان میں درمیانی عمر تک پہنچنے پر متعدد دائمی (طویل عرصے تک رہنے والے) طبی مسائل پیدا ہونے کا امکان زیادہ تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ معاشی مشکلات اور نقل مکانی کے رجحان کی وجہ سے، پہلے سے ہی محدود مواقع کی حامل برادریوں میں خراب صحت کے مسائل مرتکز ہو رہے ہیں۔

‘بی ایم جے پبلک ہیلتھ’ (BMJ Public Health) میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں تقریباً 28,400 افراد کا جائزہ پیدائش سے لے کر درمیانی عمر تک لیا گیا۔ تحقیق میں جوانی کے دور میں ساحل کے قریب رہنے اور بعد میں متعدد دائمی طبی مسائل پیدا ہونے کے درمیان کوئی واضح تعلق نہیں پایا گیا۔ فرق ان بالغ افراد کے درمیان سامنے آیا جو ساحلی بستیوں میں ہی مقیم رہے، جبکہ بہتر صحت یا زیادہ وسائل کے حامل رہائشی کہیں اور منتقل ہو گئے۔

اس تحقیق کے مرکزی مصنف پروفیسر اسٹیفن جیو راج (یو سی ایل ایپیڈیمولوجی اینڈ ہیلتھ کیئر) نے کہا: “ساحلی بستیوں میں خراب صحت کی وجہ محض ساحل پر رہائش اختیار کرنا نہیں ہے۔ بلکہ، یہ زیادہ محرومی اور ‘انتخابی نقل مکانی’ (selective migration) کے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت خراب صحت کے حامل افراد کا ساحلی علاقوں میں مقیم رہنے یا وہاں منتقل ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔”

“اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ صحت کے بڑھتے ہوئے عدم مساوات کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ساحلی علاقوں میں مخصوص پالیسیوں اور وسائل کی ضرورت ہو سکتی ہے۔”

تحقیقی ٹیم نے ‘نیشنل چائلڈ ڈیولپمنٹ اسٹڈی’ (NCDS) 1958 کے 13,691 شرکاء اور ‘برٹش کوہورٹ اسٹڈی’ (BCS) 1970 کے 14,683 شرکاء کا تجزیہ کیا۔ دونوں مطالعات میں لوگوں کا جائزہ پیدائش کے وقت سے ہی لیا گیا تھا، جس سے محققین کو یہ جانچنے کا موقع ملا کہ کئی دہائیوں کے دوران رہائش، محلے کے حالات اور صحت میں کس طرح کی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

شرکاء کو ‘متعدد طویل مدتی طبی مسائل’ کا شکار تب سمجھا گیا جب ان میں 55 سال (NCDS) یا 46 سال (BCS) کی عمر تک کم از کم دو دائمی بیماریوں کی تشخیص ہوئی۔ ان بیماریوں میں دمہ، ذیابیطس، کمر درد، کینسر، سماعت کے مسائل، ہائی بلڈ پریشر، آنکھوں کی بیماری، دل کے مسائل اور ڈپریشن شامل تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں