سابق جج کو نوبل انعام ملنے کے چند گھنٹے بعد ہی امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دیں۔
امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر پابندیاں عائد کر دیں اور اس کے کام کاج کو مفلوج کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ یہ اقدام عین اس وقت کیا گیا جب نوبل امن انعام آئی سی سی کی ایک سابق جج کو دیا گیا، جنہوں نے عدالت پر بڑھتے ہوئے سیاسی حملوں کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
یہ پیش رفت اسی دن سامنے آئی جب نارویجن نوبل کمیٹی نے امن کا انعام جنوبی افریقہ کی ناوی پلے (Navi Pillay) کو دینے کا اعلان کیا۔ وہ 85 سالہ ماہرِ قانون ہیں جنہوں نے روانڈا میں نسل کشی کے مقدمات کی سماعت کرنے والے ٹربیونل کی سربراہی کی، آئی سی سی میں خدمات انجام دیں اور بعد ازاں اقوام متحدہ کے اس کمیشن کی قیادت کی جس نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام عائد کیا تھا۔
سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن اس ادارے کے ساتھ لین دین پر پابندی لگائے گا جسے انہوں نےس “باغی یا من مانی کرنے والی عدالت” (rogue court) قرار دیا۔ اس اقدام سے ہیگ میں قائم اس عدالت کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طویل عرصے سے جاری مہم میں شدت آ گئی ہے۔ روبیو نے ایک بیان میں کہا، “یا تو آئی سی سی اپنی دھمکیاں بند کر دے یا پھر ہم آئی سی سی کا خاتمہ کر دیں گے۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ عدالت امریکی خودمختاری کی قیمت پر مزید اختیارات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ روبیو کے بیان میں پلے یا نوبل انعام کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ اس کے بجائے، انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں اور منتخب عہدیداروں کو ایسی عدالت کی جانب سے قانونی کارروائی سے بچانے کے لیے پابندیاں ضروری تھیں جس کا امریکہ کبھی بھی رکن نہیں بنا۔
روبیو نے کہا، “صدر ٹرمپ کبھی بھی بین الاقوامی فوجداری عدالت کو امریکیوں کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات سے عدالت کے وسائل منقطع ہو جائیں گے اور اس کی “کام کرنے کی صلاحیت” مفلوج ہو جائے گی۔
