فرانس اور بیلجیم میں خستہ حال اسکولوں اور اساتذہ کی کمی پر طلبہ کا احتجاج

فرانس اور بیلجیم میں خستہ حال اسکولوں اور اساتذہ کی کمی پر طلبہ کا احتجاج

فرانسیسی نوعمروں نے کچھ ہائی اسکولوں کا محاصرہ کیا اور شہروں میں ریلیاں نکالیں، جبکہ حکومت نے اساتذہ کی کمی اور اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں سے متعلق ان کے تحفظات کو دور کرنے کا وعدہ تو کیا لیکن اس حوالے سے بہت کم ٹھوس تفصیلات فراہم کیں۔

احتجاجی تحریک، جو اب اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، نے فرانس میں ان عوامی مطالبات اور مالی مشکلات کی شکار حکومت کے درمیان گہرے تناؤ کو بے نقاب کیا ہے؛ ایک طرف عوام بگڑتی ہوئی عوامی خدمات میں سرمایہ کاری کا مطالبہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف حکومت پر بانڈ مارکیٹوں کا دباؤ ہے کہ وہ اپنے قرضوں اور خسارے میں کمی کرے۔

ہائی اسکول کی استانی ڈیان ڈی سیولو (Diane Di Sciullo) نے مارسیل میں طلبہ کے ایک بڑے جلوس میں شرکت کی اور کہا کہ وہ صرف مناسب حالات میں معیاری تعلیم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کلاسوں میں طلبہ کی ضرورت سے زیادہ تعداد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ان کی کلاس میں 37 طلبہ موجود ہیں۔

انہوں نے کہا، “ہر سبق کے آغاز میں، مجھے انہیں پڑوسی کلاس رومز میں جا کر اضافی کرسیاں اور ڈیسک تلاش کرنے کا کہنا پڑتا ہے تاکہ وہ واقعی پڑھائی کر سکیں۔” 28 سالہ ڈی سیولو نے ایک ایسا پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا: “میں ایک استانی ہوں اور میرے طلبہ کلاس میں لال بیگ پکڑنے میں میری مدد کرتے ہیں۔”

وزیر کا فوری کارروائی کا وعدہ محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ اسکولوں کی ناکہ بندی یا بندش کے واقعات میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ وزارت کے مطابق صبح کے وقت 224 اسکول بند تھے، جن کی تعداد دوپہر کے کھانے کے وقت تک کم ہو کر 157 رہ گئی، یعنی 96 فیصد اسکول کھلے ہوئے تھے۔

پیرس میں ناکہ بندی والے کچھ مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ملک بھر میں بڑے ہجوم نے مظاہرے کیے؛ ان میں شمال میں لِل (Lille)، مغرب میں رین (Rennes) اور نانٹ (Nantes)، دارالحکومت پیرس، اور جنوب میں ٹولون (Toulon) اور مارسیل (Marseille) شامل ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں