یمنی رہنما نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف بڑے فوجی آپریشنز کا اعلان کر دیا۔
یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا، جس کا مقصد ان کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس حاصل کرنا ہے۔
خطے اور مغرب کے حکام نے اس ہفتے کے شروع میں خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو بتایا تھا کہ سعودی عرب اور اس کے یمنی اتحادی حوثیوں کے خلاف حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس میں فضائی کارروائی کی قیادت سعودی عرب کرے گا جبکہ یمنی افواج زمینی محاذ پر لڑیں گی۔
یمنی صدر رشاد العلیمی نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں کہا، “آج میں جمہوریہ کے باقی ماندہ علاقوں کو واپس لینے اور پوری قومی سرزمین پر ریاست اور اس کے اداروں کی عملداری قائم کرنے کے لیے فوجی آپریشنز کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں۔”
دریں اثنا، حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ریاض اور سعودی عرب کے علاقے ‘خریس’ میں واقع سعودی آرامکو (Saudi Aramco) کی تنصیبات پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے ہیں جن کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران یمن پر سعودی قیادت میں کیے گئے 50 فضائی اور میزائل حملوں کے ردعمل میں کی گئی ہے۔سعودی عرب کی جانب سے اس کی فوری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔’کشیدگی کم کرنے کے تمام مواقع ختم ہو چکے ہیں’
العلیمی نے کہا کہ جوابی کارروائی کا فیصلہ کشیدگی کم کرنے کے تمام مواقع ختم ہو جانے کے بعد کیا گیا ہے۔ انہوں نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے تناؤ کم کرنے کی کوششوں کا جواب مزید عسکری تیاریوں اور کشیدگی میں اضافے کے ساتھ دیا۔
انہوں نے کہا، “کشیدگی کم کرنے کے تمام مواقع ختم ہو جانے کے بعد، آج ہمارا موقف حوثی ملیشیا کا مقابلہ کرنے کی قومی ذمہ داری سنبھالنا ہے۔”
