پی ٹی آئی نے عمران خان تک رسائی کو تعطل کی ‘بنیادی وجہ’ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے اسے معاہدے میں شامل کرنے سے انکار کر دیا۔
پی ٹی آئی نے موقف اختیار کیا کہ مرکز کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ حکومت نے مجوزہ معاہدے میں پارٹی کے قید بانی عمران خان تک رسائی سے متعلق شرائط کو شامل کرنے سے انکار کر دیا۔ پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئینِ پاکستان (TTAP) پر مشتمل اپوزیشن وفد اور حکومت و پیپلز پارٹی (PPP) کی مشترکہ ٹیم کے درمیان گزشتہ روز گھنٹوں جاری رہنے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔
جہاں وفاقی حکومت نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار پی ٹی آئی کو ٹھہرایا، وہیں مرکزی اپوزیشن جماعت نے ان الزامات کی تردید کی اور دعویٰ کیا کہ ہفتے کی رات پیش آنے والے تمام واقعات کی ذمہ دار وفاقی حکومت تھی۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں پی ٹی آئی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سیاسی عدم استحکام، پی ٹی آئی بانی تک رسائی اور ان کے طبی علاج، نیز ملک (خاص طور پر خیبر پختونخوا) میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال جیسے خدشات کو دور کرنے کی “سنجیدہ کوششوں” کے باوجود مذاکرات کسی ٹھوس پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ “تعطل کی بنیادی وجہ” عمران خان تک فوری رسائی کا پارٹی کا مطالبہ تھا، تاکہ پارٹی قیادت “قومی اور سیاسی اہمیت” کے حامل امور پر ان سے مشاورت کر سکے۔ بیان کے مطابق، حکومت منگل سے عمران خان کی ان کے اہل خانہ اور وکلاء کے ساتھ ملاقاتیں بحال کرنے پر تو راضی ہو گئی، لیکن ان کے طبی معائنے اور علاج سے متعلق اضافی اقدامات پر اتفاق نہیں کیا۔
پی ٹی آئی نے کہا، “پیش رفت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش میں مذاکراتی ٹیم نے یہ پیغام دیا کہ اگر حکومت اس ایک مطالبے کو مان لے تو دیگر مطالبات کو فی الحال مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، پی ٹی آئی کے مطابق، حکومت نے عمران خان تک رسائی کو مجوزہ معاہدے کا حصہ بنانے سے انکار کر دیا۔”
