ریڈ بل کو ’انرجی ڈرنک‘ کا لیبل استعمال کرنے کے لیے بھارتی عدالت سے مہلت مل گئی۔

ریڈ بل کو ’انرجی ڈرنک‘ کا لیبل استعمال کرنے کے لیے بھارتی عدالت سے مہلت مل گئی۔

بھارتی عدالت نے خوراک کے نگران ادارے (فوڈ ریگولیٹر) کا وہ حکم کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے تحت آسٹریا کی مشروبات ساز کمپنی ‘ریڈ بل’ (Red Bull) کو اپنے کین پر “انرجی ڈرنک” کا لیبل لگانے سے روکا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ یہ فیصلہ کمپنی کو اپنا موقف بیان کرنے کا موقع دیے بغیر کیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ ریڈ بل کے لیے تو بڑی راحت کا باعث ہوگا ہی، لیکن اس سے پیپسی، مونسٹر بیوریج اور ارب پتی مکیش امبانی کی کمپنی ‘ریلائنس’ کو بھی فائدہ پہنچے گا؛ ان تمام کمپنیوں نے نجی طور پر بھارت کے اس اقدام پر تنقید کی تھی اور خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس کیٹیگری کے لیبل کو ہٹانے سے ان کے برانڈز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تاہم، دیگر کمپنیوں نے اس معاملے پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی تھی۔ ریگولیٹر نے جون میں “انرجی ڈرنکس” کے طور پر فروخت ہونے والے زیادہ کیفین والے مشروبات کے مینوفیکچررز کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس اصطلاح کا استعمال بند کر دیں۔ اس اقدام کو روکنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا گیا تھا، حالانکہ اس مارکیٹ کے بارے میں توقع ہے کہ 2028 تک اس کی مالیت 1.6 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

ریڈ بل کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے مذکورہ حکم کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے کمپنی کے اس موقف سے اتفاق کیا کہ ریگولیٹر نے یہ فیصلہ کمپنی کو اپنے خیالات کے اظہار کا “کوئی موقع دیے بغیر” کیا تھا۔

منصوبوں سے براہِ راست واقف ایک سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو بتایا کہ ‘فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا’ عوامی صحت کی بنیاد پر عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔ ریگولیٹر نے تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ریڈ بل کی بھارتی شاخ نے دلیل دی تھی کہ اس لیبل پر پابندی سے “ضابطہ کار کے حوالے سے نمایاں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے” اور اس سے کمپنی کی موجودہ اور منصوبہ بند تجارتی سرمایہ کاری پر “منفی اثر” پڑتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں