وفاقی وزراء کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں پر کڑی تنقید کے باوجود وزیراعلیٰ آفریدی نے سخت اور دو ٹوک موقف اپنایا۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے سخت اور دو ٹوک لہجہ اختیار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر دوبارہ کڑی تنقید کی، جبکہ دوسری جانب وفاقی وزراء نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی حکومت کی کوششوں کو ہدفِ تنقید بنایا۔
اکتوبر 2025 میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہونے والے آفریدی، انسدادِ دہشت گردی اور افغانستان سے متعلق وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی مسلسل مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اس سے قبل دن کے اوقات میں، امورِ کشمیر و سرحدی علاقہ جات کے وزیر امیر مقام نے پشاور میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے پی ٹی آئی اور آفریدی کو اس بات پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ خیبر پختونخوا کو درپیش سیکیورٹی چیلنج کے بجائے پارٹی کے مجوزہ لانگ مارچ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
بعد ازاں، اسلام آباد میں ایک پریس بریفنگ کے دوران وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا حکومت کی “قیادت” اور وسائل کے استعمال میں موجود خامیوں کو اجاگر کیا۔ اس کے بعد پشاور میں ایک اور پریس کانفرنس ہوئی، جس میں خیبر پختونخوا کے لیے وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان اور رکنِ قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے پولیس کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے میں خیبر پختونخوا حکومت کی “ناکامی” پر ایک وائٹ پیپر پیش کیا۔
دریں اثنا، پشاور میں امن و امان سے متعلق ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے زور دیا کہ جب تک پالیسی میں تبدیلی نہیں لائی جاتی، محض پولیس کو وسائل فراہم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ آفریدی نے کہا، “ہم نے بارہا کہا کہ ریاست کی موجودہ پالیسی ناقص ہے۔ ہمارے پشتونوں کا خون دوبارہ بہے گا۔” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وفاقی وزراء نے “ہماری بار بار کی جانے والی تنبیہات کو پروپیگنڈا اور جھوٹ قرار دے کر مسترد کر دیا۔” وزیرِ اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ مسلسل “22 سالہ ناکام پالیسی” میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
