ایران کی جانب سے ہرمز منصوبے کی تجویز، ٹرمپ کا انکار

ایران کی جانب سے ہرمز منصوبے کی تجویز، ٹرمپ کا انکار

تہران کا کہنا ہے کہ ایران نے تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے کلیدی حیثیت رکھنے والا یہ آبی راستہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کا مرکزی نقطہ ہے، جو تقریباً سات ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔ لیکن نیویارک میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام عالمی رہنماؤں کے اجلاس کے دوران ثالثی کی نئی کوششوں نے کسی معاہدے کی جانب پیش رفت کے حوالے سے کچھ امید پیدا کی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کے روز ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف سے بات چیت کی؛ اس سے قبل وہ جنگ کے خاتمے اور جہاز رانی کے اس اہم راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے شرائط بھی بیان کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ میں گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا، “ایران نے قطر کے ذریعے امریکہ کو سات روزہ ٹھوس منصوبہ پہنچایا ہے۔ اگر ضروری شرائط پوری کر لی جائیں تو آبنائے کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور سات دنوں کے اندر سمندری آمدورفت کو معمول پر لایا جا سکتا ہے۔”

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں