ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ’امریکہ نے ہم پر حملہ کیا، ہم نے اپنے دفاع میں کارروائی کی، ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔‘

ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ’امریکہ نے ہم پر حملہ کیا، ہم نے اپنے دفاع میں کارروائی کی، ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔‘

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران نے اپنے دفاع میں کارروائی کی، اور انہوں نے تہران کے ‘دہشت گرد ریاست’ ہونے کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا، “انہوں نے ہم پر حملہ کیا، لیکن ہم نے سر نہیں جھکایا۔”

انہوں نے کہا، “انہوں نے ہمیں نشانہ بنایا اور ہم پر حملہ کیا، لیکن ہم نے صرف اپنا دفاع کیا۔ ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔” پزشکیان نے سوال اٹھایا کہ اگر ایران ایک دہشت گرد ریاست ہوتا تو وہ اقوام متحدہ میں کیوں آتا اور جنرل اسمبلی سے خطاب کیوں کرتا؟ انہوں نے کہا، “اگر ہم دہشت گرد ہوتے تو آج یہاں اقوام متحدہ سے خطاب کیوں کر رہے ہوتے؟”

پزشکیان نے امریکہ اور اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ ایران نے حملوں کا جواب تو دیا لیکن شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی بچوں، سائنسدانوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور امریکہ و اسرائیل پر یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں پر حملے کرنے کا الزام لگایا۔

پزشکیان نے کہا، “یہ وہ حالات ہیں جن کا ہم سامنا کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ ہمیں دہشت گرد قرار دیتا ہے۔” ایرانی صدر نے تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اسرائیل نے ہنیہ کو ان کی صدارتی حلف برداری کی تقریب والے دن نشانہ بنایا۔ پزشکیان نے کہا کہ ایران نے حملوں کا جواب دیا لیکن اس بات پر زور دیا کہ اس نے شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں