رحیم یار خان کی خواجہ فرید یونیورسٹی نے ہراسانی کے الزامات پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی۔
رحیم یار خان کی خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (KFUEIT) نے سوشل میڈیا پر ایک لیکچرر کی جانب سے طالبہ کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے سے متعلق اسکرین شاٹس اور الزامات سامنے آنے کے بعد ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔
آن لائن گردش کرنے والے دعووں کے مطابق، طالبہ نے لیکچرر پر نامناسب پیغامات بھیجنے، ملاقات کے لیے مبینہ طور پر دباؤ ڈالنے اور انکار کی صورت میں تعلیمی نتائج بھگتنے کی دھمکی دینے کا الزام عائد کیا۔ تاہم، یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ اب تک کسی بھی طالبہ کی جانب سے کوئی باضابطہ تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی ہے اور کمیٹی حقائق کا تعین کرنے کے لیے اسکرین شاٹس، دستیاب معلومات اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لے گی۔
طالبہ نے مزید دعویٰ کیا کہ اسے مبینہ طور پر بہتر نمبرز اور گریڈز کی پیشکش کی گئی اور واٹس ایپ پیغامات، ایس ایم ایس اور فون کالز کے ذریعے بار بار رابطہ کیا گیا۔ اس نے کہا کہ اس کے پاس مبینہ رابطوں کا ریکارڈ موجود ہے اور دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ ای میل کے ذریعے وائس چانسلر کے نوٹس میں بھی لایا گیا تھا۔
ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ دریں اثنا، KFUEIT انتظامیہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر طلبہ اور فیکلٹی ممبران سے متعلق کچھ منفی رپورٹس اور دعوے گردش کر رہے ہیں۔ تاہم، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں اب تک کسی بھی طالبہ کی جانب سے کوئی باضابطہ تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔
