چترال میں برفانی تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے کم از کم نو افراد جاں بحق ہو گئے جب کہ شدید برف باری، برفانی تودے اور لینڈ سلائیڈنگ سے خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں نظام زندگی درہم برہم ہو گیا، سڑکیں بند ہو گئیں، مسافر پھنس گئے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ریلیف آپریشن میں خلل پڑا۔
دوپہر کو ضلع کے انتہائی جنوب میں دمل علاقے کے سیریگل گاؤں میں برفانی تودہ ایک مکان سے ٹکرا گیا۔
لوئر چترال کے ڈپٹی کمشنر ہاشم عظیم نے بتایا کہ ملبے سے لاشیں نکال لی گئی ہیں، جب کہ ایک نو سالہ لڑکا زندہ بچ گیا اور اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ برفانی تودہ اس وقت شروع ہوا جب علاقے میں 20 انچ سے زیادہ برف باری ہوئی، جس میں ایک قریبی چراگاہ سے برف کا ایک بڑا ٹکڑا نیچے پھسل کر کم آبادی والے پہاڑی گاؤں میں الگ تھلگ مکان سے ٹکرا گیا۔
جاں بحق ہونے والوں میں باچا خان، ان کی اہلیہ، تین بیٹے، دو بیٹیاں اور دو بہو شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ گھر کے مرکزی کمرے میں کھانا کھا رہے تھے جب برفانی تودہ گرا۔