وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے تصدیق کی ہے کہ وہ پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کے بعد آئندہ این ایف سی ایوارڈ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2018 میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کو ابھی تک وہ فنڈز نہیں ملے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2018 سے 2025 تک کے پی کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت اس کا جائز حصہ نہیں دیا گیا۔
آفریدی نے زور دے کر کہا کہ این ایف سی ایوارڈ خیبرپختونخوا کے عوام کا آئینی حق ہے، ذاتی معاملہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو صوبے کے مالیاتی حصہ سے متعلق مسائل پر آواز اٹھانے کا حق ہے۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز پر بھی زور دیا کہ وہ فنڈز کی تقسیم میں شفافیت اور منصفانہ عمل کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم خیبر پختونخوا کی سماجی و اقتصادی ترقی اور صوبوں کے درمیان دیرینہ تفاوت کو دور کرنے کے لیے اہم ہے۔
این ایف سی ایوارڈ طویل عرصے سے پاکستان میں مالیاتی توازن اور قومی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔
آفریدی اور دیگر اعلیٰ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ ایوارڈ کا بروقت اور منصفانہ نفاذ نہ صرف علاقائی ترقی بلکہ غربت میں کمی، عوامی خدمات کو بہتر بنانے اور ملک بھر میں معاشی استحکام کو فروغ دینے کے لیے بھی ضروری ہے۔