ہماری نئی نسل اور سوشل میڈیا کی دنیا

گزشتہ ایک دہائی میں سوشل میڈیا نے ہماری روزمرہ زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسی ایپس نے نہ صرف لوگوں کے میل جول کے انداز کو بدلا ہے بلکہ ہمارے خیالات، رجحانات اور حتیٰ کہ خوابوں پر بھی اثر ڈالا ہے۔ آج کی نئی نسل کے ہاتھ میں موبائل فون گویا ایک “چھوٹی دنیا” ہے جہاں وہ دوست بناتی ہے، علم حاصل کرتی ہے، خوشی ڈھونڈتی ہے اور بعض اوقات تنہائی سے لڑنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ دنیا ہمیں آگے بڑھا رہی ہے یا پیچھے دھکیل رہی ہے؟ تحقیق بتاتی ہے کہ نوجوان دن میں اوسطاً چار سے چھ گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔ اس دوران وہ حقیقت سے زیادہ ورچوئل لائف میں جیتے ہیں۔ یہ عادت ان کی تعلیم، نیند اور تعلقات پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ دوسری طرف، یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے اور بزنس کے مواقع کو بڑھایا ہے۔ آج ایک عام نوجوان بھی صرف موبائل اور انٹرنیٹ کی مدد سے اپنا کاروبار شروع کر سکتا ہے۔

اصل ضرورت توازن کی ہے۔ ہمیں نئی نسل کو یہ سکھانا ہوگا کہ سوشل میڈیا کا استعمال علم اور مثبت سرگرمیوں کے لیے کیسے کیا جائے، نہ کہ صرف وقتی تفریح اور دکھاوے کے لیے۔ والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی رہنمائی کریں تاکہ یہ طاقتور ذریعہ ان کی کامیابی کا زینہ بنے، نہ کہ ناکامی کا سبب۔

اپنا تبصرہ بھیجیں