یورپ کی طاقتور اقوام یعنی برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے اقوامِ متحدہ کو اسنیپ بیک پابندیوں کی بحالی کی اطلاع دے دی ہے، جو ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی معاہدہ کی خلاف ورزی کا جواب ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد ایران پر نئے اقتصادی اور سفارتی دباؤ ڈالنا ہے تاکہ دوبارہ قواعد کے مطابق واپسی کی جائے
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایران نے اقوامِ متحدہ کے جوہری نگرانی مشن (IAEA) کو اپنے تمام نیوکلیئر مقامات پر دوبارہ رسائی دینے میں ناکامی ظاہر کی، جس نے یورپی ممالک کو پابندیوں کی بحالی کا راستہ اپنانے پر مجبور کردیا۔
اہم پہلو:
اقتصادی دباؤ کا امکان: اسنیپ بیک پابندیاں عام طور پر بین الاقوامی مالیاتی اور تجارتی رد و بدل کو محدود کرتی ہیں، اور ایران کے معیشتی نظام پر سنگین اثر ڈال سکتی ہیں۔
معاہدہ کی بحالی کی کوشش: اس اقدام کے ذریعے یورپی قوتیں ایران پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہیں تاکہ وہ مشاہداتی شفافیت اور عالمی قوانین کی پابندی کی جانب واپس لوٹے۔
عالمی توازن پر اثرات: ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ممکن ہے، جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی تنازعات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
خلاصہ:
یہ مضمون ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف یورپ کی جدید سفارتی پیش رفت—اسنیپ بیک پابندیاں—کو واضح کرتا ہے۔ اس سے دنیا میں جوہری غیر پھیلاؤ کے حوالے سے عالمی فورسز کی سنجیدگی اور ایران پر دباؤ کو بڑھانے کی کوششوں کی جھلک ملتی ہے۔