سائنسدانوں نے دنیا کا پہلا ایسا ڈی این اے کمپیوٹر تیار کیا ہے جو مسلسل بجلی کی فراہمی کے بغیر چلتا ہے۔

سائنسدانوں نے دنیا کا پہلا ایسا ڈی این اے کمپیوٹر تیار کیا ہے جو مسلسل بجلی کی فراہمی کے بغیر چلتا ہے۔

25 مختلف حسابات کے لیے دوبارہ قابلِ استعمال، ڈی این اے (DNA) کمپیوٹر توانائی کی بچت کرنے والی کمپیوٹنگ اور طویل مدتی ڈیٹا اسٹوریج میں ممکنہ استعمال کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ ایک ڈی این اے کمپیوٹر نے سلیکون چپ کے بجائے پانی میں موجود باہمی تعامل کرنے والے اسٹرینڈز ( strands) کا استعمال کرتے ہوئے 30 سیکنڈز میں 10 اور 3 کو جمع کیا ہے۔

مینوتھ یونیورسٹی (MU) کے محققین کا تیار کردہ یہ نظام بجلی کی مسلسل فراہمی کے بغیر ضرب اور تقسیم کا عمل بھی انجام دے سکتا ہے۔ ‘نیچر’ (Nature) جریدے میں شائع ہونے والی یہ تحقیق اپنی نوعیت کا پہلا نظام پیش کرتی ہے جسے اب تک رپورٹ کیے جانے والے پیچیدہ ترین اور تیز ترین مالیکیولر کمپیوٹرز میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

ڈی این اے اسٹرینڈز جواب تشکیل دیتے ہیں ایم یو (MU) کے ہیملٹن انسٹی ٹیوٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر اور کمپیوٹر سائنسدان ڈاکٹر عبیر اشرا، جنہوں نے ان میں سے کئی تجربات کیے، نے مائع کے اندر ہونے والے عمل کی وضاحت کی: “مائع کے ایک چھوٹے سے قطرے میں اربوں، اور بعض اوقات کھربوں، ڈی این اے اسٹرینڈز موجود ہوتے ہیں۔

یہ اسٹرینڈز نتیجہ اخذ کرنے کے لیے آپس میں تعامل کرتے ہیں۔” کمپیوٹر کی تیاری کے لیے، ٹیم نے ایک ٹیسٹ ٹیوب میں پانی اور نمک کے ایک چھوٹے قطرے کو ڈی این اے کے مختصر ٹکڑوں اور ڈی این اے کے ایک طویل ‘اسکافولڈ’ (ڈھانچے) کے ساتھ ملایا۔

اس عمل کو شروع کرنے کے لیے آمیزے کو صرف معمولی حرارت کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر اسے ٹھنڈا کیا جاتا ہے، جس سے کمپیوٹیشن (حساب کتاب) کا عمل آگے بڑھتا ہے۔ ایم یو کے ہیملٹن انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر ڈیمین ووڈز نے کہا، “مالیکیولز آپس میں تعامل کرتے ہیں، ایک ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں اور وہی ڈھانچہ جواب ہوتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “ایک اہم جدت یہ ہے کہ یہ نظام توانائی کی مسلسل فراہمی کی ضرورت کے بغیر قدرتی طور پر وہ جواب تلاش کر لیتا ہے۔”

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں