ایک مردہ ستارے نے شاید ایک نئے سیارے کو جنم دیا ہو۔

ایک مردہ ستارے نے شاید ایک نئے سیارے کو جنم دیا ہو۔

ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ کے پرانے مشاہدات کا دوبارہ جائزہ لینے والے ماہرینِ فلکیات کو ایک ایسا سراغ ملا ہے جو دہائیوں پرانے ایک معمہ کو حل کر سکتا ہے۔ ‘نیچر ایسٹرونومی’ (Nature Astronomy) میں 5 اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ایسے شواہد پیش کیے گئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ‘وائٹ ڈوارف’ (سفید بونا ستارہ) HS 0209+0832 کے گرد شاید دوسری نسل کا کوئی سیارہ گردش کر رہا ہے۔

وائٹ ڈوارف کم کمیت والے اس ستارے کا باقی ماندہ مرکزہ (core) ہوتا ہے جس کا جوہری ایندھن ختم ہو چکا ہو اور جس نے گیس اور دھول پر مشتمل اپنی بیرونی تہیں خلا میں خارج کر دی ہوں۔ دوسری نسل کا سیارہ زمین جیسے سیاروں سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ یہ کسی مرتے ہوئے ستارے کے خارج کردہ مادے سے بعد میں تشکیل پاتا ہے۔

برطانیہ کی واروک یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی امیدوار اور اس تحقیق کی مرکزی مصنفہ، ماہرِ فلکیات جیمی ولیمز نے کہا: “اس بات کے بجائے کہ وائٹ ڈوارف کا مرحلہ کسی ستارے اور اس کے سیاروں کی کہانی کا اختتامی باب ہو، یہ تحقیق اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جن نظاموں سے ہم واقف ہیں وہ دراصل ایک ممکنہ طور پر بہت طویل کہانی کا صرف پہلا باب ہیں، جس میں کچھ نئے کردار بھی سامنے آتے ہیں۔

یہ تحقیق کو آگے بڑھانے کے لیے واقعی ایک بہت دلچسپ امکان ہے۔” زمین اور ہمارے نظامِ شمسی کے دیگر سیاروں کو پہلی نسل کے سیارے سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ اس مادے سے بنے تھے جو سورج کی پیدائش کے وقت باقی رہ گیا تھا۔ ہبل کے پرانے ڈیٹا میں ایک عجیب کیمیائی نشان یہ اہم پیش رفت دو دہائیاں قبل اکٹھے کیے گئے مشاہدات میں پوشیدہ ایک غیر معمولی کیمیائی نشان (کیمیکل فنگر پرنٹ) کی بدولت ممکن ہوئی۔

ولیمز نے کہا: “ہبل ہمیں اس وائٹ ڈوارف نظام میں کچھ ایسا دکھا رہا ہے جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا: ‘نیوبیم’ (niobium) نامی عنصر کی بہت زیادہ مقدار؛ جب میں نے آرکائیو ڈیٹا میں پہلی بار اس کا نشان دیکھا تو میں اس سے واقف نہیں تھی۔”

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں