کیا خلائی حیات ایسے طریقوں سے باشعور ہو سکتی ہے جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے؟

کیا خلائی حیات ایسے طریقوں سے باشعور ہو سکتی ہے جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے؟

ایک نیا اور فکر انگیز مقالہ یہ تجویز کرتا ہے کہ شعور شاید صرف زمین تک محدود نہیں ہے اور یہ ایسی خلائی حیات میں بھی پیدا ہو سکتا ہے جو ہمارے تصور سے کہیں زیادہ عجیب و غریب ہو۔ ایک نئے فلسفیانہ مقالے میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ شعور کا تعلق صرف اُس قسم کی زندگی سے نہیں ہے جسے ہم جانتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ریور سائیڈ میں فلسفے کے ممتاز پروفیسر ایرک شوٹزگیبل (Eric Schwitzgebel) کے مطابق، یہ سوچنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے کہ شعوری تجربے کا انحصار خاص طور پر گوشت، خون یا زمین پر پائی جانے والی حیاتیاتی ساخت (biology) پر ہے۔

اس کے برعکس، شوٹزگیبل اور جیریمی پوبر (Jeremy Pober)—جو UCR کے سابق گریجویٹ طالب علم اور اب یونیورسٹی آف لزبن میں پوسٹ ڈاکٹورل محقق ہیں—یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ شعور ایسی حیات میں بھی پیدا ہو سکتا ہے جو بالکل مختلف مادوں سے تشکیل پائی ہو۔ حال ہی میں مقبول ہونے والی فلم ‘پروجیکٹ ہیل میری’ (Project Hail Mary) میں دکھائے گئے پانچ اعضاء اور پتھریلی جلد والے خلائی مخلوق کے کردار کا تصور کریں۔

مصنفین کا استدلال ہے کہ اس امکان کو محض اس لیے مسترد نہیں کیا جانا چاہیے کہ یہ زمین پر موجود زندگی سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ شعور کا انحصار شاید زمین جیسی حیاتیات پر نہ ہو شوٹزگیبل اور پوبر شعور کی تعریف کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے اس مفروضے سے آغاز کرتے ہیں کہ شعور ایک حقیقی اور قابلِ شناخت مظہر ہے۔ وہ ایک زیادہ مخصوص سوال پر توجہ مرکوز کرتے ہیں: کیا شعور کے لیے زمین جیسی حیاتیاتی ساخت کی ضرورت ہے، یا یہ ایسے جانداروں میں بھی پیدا ہو سکتا ہے جن کی جسمانی ساخت بالکل مختلف ہو؟

ان کا یہ مقالہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت (AI) کے بارے میں بحثیں شدت اختیار کر رہی ہیں۔ اگرچہ کچھ لوگ شعور کی حامل مصنوعی ذہانت کو ایک بڑی کامیابی یا خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن مصنفین اس بارے میں کوئی متفقہ موقف اختیار نہیں کرتے کہ آیا آج کے AI سسٹمز شعور رکھتے ہیں یا نہیں۔ درحقیقت، وہ اس مسئلے پر اختلافِ رائے رکھتے ہیں۔ تاہم، ان کا وسیع تر استدلال اس امکان کو کھلا رکھتا ہے کہ مصنوعی نظاموں میں بھی بالآخر شعور پیدا ہو سکتا ہے، چاہے موجودہ AI اس مقام تک نہ پہنچا ہو۔

مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں