ایک غیر معمولی اور حیرت انگیز واقعہ کے طور پر، کراچی میں ایک تھیٹر گروپ نے دنیا بھر میں سراہا جانے والا ہندو مہاکاوی “رامائنہ” پاکستانی سیاق و سباق میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔ اس ڈرامائی پیشکش کی خاص بات اس کی ثقافتی حساسیت اور مستند کہانی سنانے کی روایت ہے، جس نے ناقدین اور عوام دونوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے
منفرد پہلو:
ثقافتی ہمدردی: یہ ایڈاپٹیشن نہ صرف محض ڈرامے کا ایک روپ ہے، بلکہ ایک ایسے فنکارانہ اقدام کا مظہر بھی ہے جو معاشرتی اور مذہبی تفریق کو ختم کرتے ہوئے انسانیت کے مشترکہ پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔
تاریخی مکالمہ: پرفارمنس نے فن، ادب اور تاریخ کے ذریعے جنوبی ایشیا کے مشترک ورثے کو زندہ کیا۔ ناقدین نے “نفرت کے بجائے احترام” والی اس کوشش کو سراہا ہے
اثرات:
اس پیشکش نے نہ صرف تھیٹر کی دنیا کو متحرک کیا بلکہ بطور عوامی اظہار، ایک مثبت پیغام بھی دیا کہ آرٹ سرحدیں توڑ سکتا ہے۔ اس شاہکار نے معزز پرفارمنس آرٹس کے دائرہ کو وسعت دی اور ثقافتی ہم آہنگی کا ایک خوبصورت شاہکار پیش کیا ہے
خلاصہ:
انفرادیت: رمضان یا دیگر مذہبی تفریق سے آزاد، “رامائنہ” جیسی مہاکاوی کہانی کا پاکستانی تھیٹر میں عملی مظاہرہ۔
ثقافتی پیش رفت: فن کے ذریعے باہمی احترام اور اقدار کی مشترکیت کو اجاگر کرنا۔
عوامی اور تنقیدی ردعمل: مثبت پذیرائی نے اس تجربے کو یادگار اور معنی خیز بنایا۔