پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد دریاؤں میں طغیانی، ہزاروں افراد متاثر

پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں دریائے راوی، چناب اور ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق اب تک تقریباً 28 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل کیے جا چکے ہیں جبکہ کئی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔

ریسکیو ٹیموں کے مطابق جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب کے متعدد دیہات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ سینکڑوں مکانات ڈھے گئے اور کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں، جس سے مقامی کسانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر خیمے، خوراک اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم کئی مقامات پر سڑکوں اور پلوں کے ٹوٹنے کے باعث امدادی کارروائیاں مشکل ہو گئی ہیں۔

ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اگلے چند دنوں میں مزید بارشیں ہونے کا امکان ہے جس سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب حکومت نے فوج اور رینجرز کو بھی امدادی سرگرمیوں میں شامل کر لیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا سکے۔

متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر ریلیف کیمپوں میں سہولیات بڑھائے اور کسانوں کے نقصانات کے ازالے کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کرے۔ یاد رہے کہ گزشتہ چند سالوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان میں سیلاب ایک مستقل مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں